سی پی ایم اسمبلی چناﺅ میں بدھا دیب بھٹاچاریہ کی تصویروں کی مدد لے رہی ہے
سی پی ایم اسمبلی چناﺅ میں بدھا دیب بھٹاچاریہ کی تصویروں کی مدد لے رہی ہے

یادو پور اسمبلی حلقہ کے انتخابات میں سی پی آئی (ایم) اپنے امیدوار بکاش رنجن بھٹاچاریہ کے بجائے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی بدھ دیب بھٹاچاریہ کی تصویروں اور ان کی وراثت کا سہارا لے رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ بکاش رنجن بھٹاچاریہ کے خلاف عوامی ناراضگی بتائی جا رہی ہے۔
بکاش رنجن اور ‘نوکری’ کا تنازع: بکاش رنجن بھٹاچاریہ پیشے سے وکیل ہیں اور ان کے ذریعے دائر کردہ کیس کے نتیجے میں اپریل ۲۰۲۴ میں کلکتہ ہائی کورٹ نے ۲۶ ہزار اساتذہ کی ملازمتیں منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس وجہ سے انتخابی مہم کے دوران متاثرہ خاندان انہیں ‘نوکری کھانے والا’ کہہ کر پکار رہے ہیں اور کئی جگہوں پر انہیں شدید احتجاج کا سامنا ہے۔
‘بدھ شرنم’ حکمت عملی: سی پی آئی (ایم) کے کارکنوں کا ماننا ہے کہ بدھ دیب بھٹاچاریہ کا صاف ستھرا عکس اور یادو پور کے لیے ان کی خدمات ہی اب ڈوبتی نیا کو پار لگا سکتی ہیں۔ یادو پور کی گلیوں میں امیدوار سے زیادہ بدھ بابو کے پوسٹر نظر آ رہے ہیں۔

