گھر سے فرار ہونے والی چار لڑکیوںکو فوراً کارروائی کرکے بچا لیاگیا

گھر سے فرار ہونے والی چار لڑکیوںکو فوراً کارروائی کرکے بچا لیاگیا

یہ خبر کولکتہ کے ایمہرسٹ اسٹریٹ تھانے کی پولیس کی ہوشیاری اور بروقت کارروائی کے بارے میں ہے، جنہوں نے گھر سے بھاگنے والی نویں جماعت کی چار طالبات کو چند ہی گھنٹوں میں بحفاظت بازیاب کر لیا۔ان چاروں لڑکیوں کو ان کے والدین نے ہکا بار (Hookah Bar) جانے پر ڈانٹا تھا، جس سے ناراض ہو کر انہوں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
جمعرات کے روز یہ لڑکیاں اسکول گئیں لیکن واپس گھر نہیں پہنچیں۔ پریشان والدین نے ایمہرسٹ اسٹریٹ تھانے میں اغوا کی شکایت درج کروائی۔پولیس کو تلاشی کے دوران ہاوڑہ اسٹیشن سے اطلاع ملی کہ چاروں لڑکیوں نے اسٹیشن کے واش روم میں اسکول یونیفارم اتار کر دوسرے کپڑے پہن لیے ہیں۔
پولیس نے ان کی ہم جماعتوں سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ ایک لڑکی کا انسٹاگرام کے ذریعے ممبئی کے ایک نوجوان سے رابطہ تھا جو ان دنوں آسنسول (Asansol) آیا ہوا تھا۔ دوسری طرف ایک لڑکی کا حیدرآباد میں مقیم ایک دوست سے بھی رابطہ تھا۔
پولیس نے حیدرآباد والے دوست سے رابطہ کیا، جس نے ایک آڈیو کلپ بھیجی۔ اس کلپ میں پیچھے سے ٹرین کی آواز اور ایک لڑکی کی آواز میں "ہوٹل ڈھونڈنا ہوگا” کے الفاظ سنائی دیے۔ اس سے پولیس کو یقین ہو گیا کہ لڑکیاں ٹرین میں ہیں اور کسی ہوٹل کی تلاش میں ہیں۔ پولیس کی ٹیم فوری طور پر آسنسول روانہ ہوئی۔ رات گئے اسٹیشن کے قریب چاروں لڑکیوں کو گھومتے ہوئے پایا گیا اور انہیں اپنی تحویل میں لے لیا گیا۔کسی بھی ہوٹل نے نابالغ ہونے کی وجہ سے انہیں کمرہ دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اسٹیشن پر رات گزارنے کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔پولیس نے جمعہ کی صبح چاروں طالبات کو بحفاظت کولکتہ واپس لا کر ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔پولیس کی اس تیز رفتار کارروائی اور "ٹیکنیکل انٹیلی جنس” کے استعمال کو عوامی سطح پر بہت سراہا جا رہا ہے۔

Back to top button
Translate »