کیا دہلی کی طرح بنگال میں بھی چلے گی ’نمو بھارت‘؟ شمیک نے 4 ہائی اسپیڈ روٹس کی تجویز پیش کی

کیا دہلی کی طرح بنگال میں بھی چلے گی ’نمو بھارت‘؟ شمیک نے 4 ہائی اسپیڈ روٹس کی تجویز پیش کی

کیا اب دہلی کی طرح بنگال میں بھی ’نمو بھارت‘ چلائی جائے گی؟ بی جے پی کے ریاستی صدر شمیک بھٹاچاریہ نے چار ہائی اسپیڈ روٹس کی تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے پہلے ہی مرکزی وزیر برائے ہاو¿سنگ و شہری ترقی منوہر لال کھٹر کو رپورٹ کے ساتھ خط بھیج دیا ہے۔
شمیک بھٹاچاریہ کی تجویز کردہ چار اہم کوریڈور یہ ہیں:کولکاتا-کلیانی-کرشن نگر-مایاپور، کولکاتا-بردوان-درگاپور-آسنسول، کولکاتا-فالتا-ڈائمنڈ ہاربر-ہلدیہ-نندی گرام اور کولکاتا-سانتراگاچی-کولاگھاٹ-کھڑگپور-مدنی پور۔کولکاتا-کلیانی-کرشن نگر-مایاپور کوریڈور کی مجموعی لمبائی 135 کلومیٹر ہوگی۔ اس سے بنیادی طور پر نادیہ ضلع اور ملحقہ علاقوں کی ترقی ہوگی۔
دوسری جانب 232 کلومیٹر طویل کولکاتا-بردوان-درگاپور-آسنسول کوریڈور صنعتی علاقوں آسنسول اور درگاپور کو جوڑے گا۔ یہاں میٹرو رابطے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔102 کلومیٹر طویل کولکاتا-فالتا-ڈائمنڈ ہاربر-ہلدیہ-نندی گرام کوریڈور جنوبی 24 پرگنہ اور مشرقی مدنی پور کو جوڑے گا۔ میدان سے بج بج تک میٹرو کو بھی اس سے جوڑنے پر غور کیا جا رہا ہے۔135 کلومیٹر طویل کولکاتا-سانتراگاچی-کولاگھاٹ-کھڑگپور-مدنی پور کوریڈور مغربی مدنی پور اور ہاوڑہ کے درمیان رابطے کے نظام کو مزید مضبوط کرے گا۔
شمیک بھٹاچاریہ کے مطابق، ابھی کولکاتا کے علاوہ درگاپور، آسنسول، کھڑگپور اور ہلدیہ جیسے صنعتی شہروں کا رابطے کا نظام اتنا بہتر نہیں ہے۔ رابطے کے نظام سے مراد فی الحال صرف ٹرین یا قومی شاہراہیں ہیں۔ اس لیے اگر یہ چار نئے کوریڈور تعمیر کیے جاتے ہیں تو آمدورفت کی رفتار میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ روٹس قومی شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کے قریب بنائے جائیں گے، اس لیے زمین کے حصول کی لاگت بھی کم ہوگی۔ اسی لیے مرکزی این سی آر ٹی سی کی طرز پر مرکز اور ریاست کی مشترکہ پہل سے ’ویسٹ بنگال ریپڈ ٹرانزٹ کارپوریشن‘ کے نام سے ایک خصوصی ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔شمیک چاہتے ہیں کہ مرکزی وزارتِ ہاو¿سنگ و شہری ترقی ان کی اس درخواست پر غور کرے۔

Back to top button
Translate »