
انا پورنادیوس کے موقع پر پی ایم مودی نے ’کٹ منی‘ کے دور کو نشانہ بنایا، شوبھیندو نے بنگال کے سنڈیکیٹ کے خاتمے کا اعلان کیا
انا پورنادیوس کے موقع پر پی ایم مودی نے ’کٹ منی‘ کے دور کو نشانہ بنایا، شوبھیندو نے بنگال کے سنڈیکیٹ کے خاتمے کا اعلان کیا

جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ بنگال میں ایک بڑے سیاسی مظاہرے میں تبدیل ہوگئی، جہاں شوبھیندو ادھیکاری کی جانب سے ”انّ پورنا دیوس“ کے افتتاح کے موقع پر ریاست میں طویل عرصے سے قائم مبینہ ”کٹ منی“ سنڈیکیٹ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
ریاستی سطح کے پروگرام سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ترنمول کانگریس کے دور میں مبینہ طور پر ہونے والی منظم لوٹ پر براہ راست نشانہ سادھا، اگرچہ انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی رکاوٹوں اور غلط سیاسی ارادے کی وجہ سے بنگال کے غریب خاندان مرکزی حکومت کی فلاحی اسکیموں سے محروم رہ گئے۔
انّ پورنا یوجنا کے تحت ہر ماہ 3,000 روپے براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ درمیانی افراد کو پوری طرح ہٹا دیا گیا ہے اور اب بنگال کی تقریباً 1.58 کروڑ خواتین کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم پہنچ رہی ہے۔
مودی نے اعلان کیا، ”کوئی کٹ منی نہیں ہے۔ اب بنگال میں کٹ منی نہیں چلتی۔“انہوں نے 4 مئی کو حکومت کی تبدیلی میں خواتین کے ووٹروں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے مزید کہا، ”جیسے ہی ریاست میں نئی حکومت نے ذمہ داری سنبھالی، اسکیم پر کام شروع ہوگیا…. آج اتنی ساری خواتین کے بینک کھاتوں میں براہ راست رقم پہنچ رہی ہے۔“
سابق حکومت کی طویل عرصے تک کام میں سستی اور موجودہ انتظامیہ کے درمیان فرق کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ”کوتھا کم، کاج بیشی“ یعنی ”بات کم، کام زیادہ“ کے اصول کے تحت مرکزی حکومت کی رکی ہوئی اسکیموں کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ محدود گھریلو بجٹ میں گھر چلانے والی خواتین کے لیے ہر ماہ ملنے والی مالی مدد بچوں کی تعلیم، دواو¿ں کی خریداری اور روزمرہ زندگی کے بنیادی اخراجات کے لیے ایک اہم سہارا ہے۔وزیر اعظم نے کہا، ”ہمارا وڑن ہے کہ بنگال کی خواتین کے پاس فیصلہ لینے کی طاقت بھی ہو اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی… اس اسکیم کا اس میں اہم کردار ہے۔ میں تمام مستفید ہونے والی ماو¿ں اور بہنوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔“اس کے بعد وزیر اعلیٰ نے زمینی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے انتظامی اور سماجی اصلاحات کے ایجنڈے پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔شوبھیندو نے کہا، ”ہم صرف خیرات بانٹنے نہیں آئے ہیں، بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات لانے آئے ہیں۔“ انہوں نے تصدیق کی کہ ماہانہ 3,000 روپے کی فلاحی امداد کی چوتھی قسط 1.5 کروڑ سے زیادہ مستفید ہونے والوں کے بینک کھاتوں میں پہنچ چکی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے پر حکومت کی توجہ کو واضح کرتے ہوئے شوبھیندو نے اعلان کیا کہ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت حال ہی میں حتمی شکل دی گئی 50 لاکھ سے زیادہ گھروں کی فہرست میں جائیداد کے دستاویزات صرف خواتین کے نام پر یا خواتین کے ساتھ مشترکہ طور پر رجسٹر کیے جائیں گے۔ اس سے دیہی اور شہری علاقوں میں خاندانی اثاثوں کی ملکیت کے طریقہ کار میں مستقل تبدیلی لانے کی بات کہی گئی۔
سکیورٹی، عوامی تحفظ اور گہری سماجی اصلاحات کی جانب توجہ دلاتے ہوئے شوبھیندو نے کہا کہ ریٹائرڈ جسٹس سَمَاپتی چٹرجی کی سربراہی میں قائم خصوصی تحقیقاتی کمیشن گزشتہ چار ماہ سے مکمل طور پر فعال ہے۔ یہ کمیشن خواتین کے خلاف ماضی میں پیش آنے والے مظالم کی تحقیقات کر رہا ہے اور انہوں نے قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔شوبھیندو نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ”اس حکومت کی مدت کار میں 18 سال سے کم عمر کی کسی بھی لڑکی کی شادی نہیں ہونے دی جائے گی۔“انہوں نے کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے مہم چلانے کی بات کرتے ہوئے مرشدآباد اور جنوبی 24 پرگنہ جیسے اضلاع میں کم عمری کی شادیوں میں ممکنہ اضافے پر خصوصی توجہ دینے کی بات کہی۔ انہوں نے معاشرے سے منشیات، جرائم پیشہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے والے نیٹ ورک اور غیر قانونی کم عمری کی شادیوں میں مدد کرنے والوں کے خلاف مہم چلانے پر بھی زور دیا۔


