اختر علی گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد عدالت پہنچے

اختر علی گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد عدالت پہنچے


کولکاتا7جنوری :آخر کار آر جی کر میڈیکل کالج کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اختر علی عدالت میں پیش ہو گئے۔ سرکاری اسپتال میں بدعنوانی کے ملزم اختر علی ہفتہ کے روز ہاوڑہ کے ایک اسپتال سے کولکتہ کی علی پور سی بی آئی کی خصوصی عدالت پہنچے۔ جمعہ کے روز عدالت نے ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں خودسپردگی (سرنڈر) کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، ہفتہ کو عدالت پہنچنے کے باوجود انہوں نے تکنیکی وجوہات کی بنا پر سرنڈر نہیں کیا اور بتایا کہ وہ اب پیر کو باقاعدہ خودسپردگی کریں گے۔عدالت میں داخل ہوتے وقت اختر علی نے آر جی کر کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش پر اپنے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا، "جس رقم لینے کا الزام مجھ پر لگایا جا رہا ہے، وہ میں نے اپنے بھائی کے علاج کے لیے ادھار لی تھی۔ اب مجھے سازش کے تحت پھنسایا جا رہا ہے۔” قابلِ ذکر ہے کہ اختر علی ہفتہ کو اپنے ساتھ کوئی وکیل لے کر نہیں گئے تھے اور نہ ہی پہلے سے عدالت کو مطلع کیا تھا۔ عدالت دوپہر 12:30 بجے بند ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے وہ سرنڈر کیے بغیر واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے میڈیا سے کہا، "میں اب بھی بیمار ہوں اور اسپتال میں تھا۔ میرے پاس موبائل نہیں تھا، اس لیے معلوم نہیں ہو سکا کہ عدالت جلد بند ہو جائے گی۔ یہ میری ‘بدقسمتی’ ہے، اب پیر کو عدالت کے حکم کے مطابق سرنڈر کروں گا۔ آر جی کر میں زیرِ تربیت ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے واقعے کے بعد مالی بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس وقت اختر علی نے پرنسپل سندیپ گھوش کے خلاف مالی بے ضابطگیوں کی شکایت کی تھی، جس کی تحقیقات ہائی کورٹ نے سی بی آئی کے حوالے کر دی تھی۔ تاہم، تحقیقات کے دوران سی بی آئی نے پایا کہ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے اختر علی خود بھی مالی خرد برد میں ملوث ہیں، جس پر ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی۔ بار بار سمن کے باوجود حاضر نہ ہونے پر علی پور کی خصوصی عدالت نے جمعہ کو ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔

Back to top button
Translate »