نئی پارٹی بنانے کے باوجود ترنمول نے ہمایون کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کی درخواست نہیں کرے گی
نئی پارٹی بنانے کے باوجود ترنمول نے ہمایون کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کی درخواست نہیں کرے گی

کولکاتا24دسمبر:بھرت پور سے ترنمول کانگریس کے معطل (Sustended) رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کی جانب سے نئی سیاسی پارٹی بنانے کے باوجود، ترنمول پارلیمانی پارٹی ان کی رکنیت ختم کرنے کے لیے کوئی درخواست نہیں دے گی۔ اسمبلی کے ذرائع کے مطابق، پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمایوں کے بارے میں کوئی عوامی بیان بھی جاری نہیں کیا جائے گا۔ ترنمول پارلیمانی پارٹی کے ایک سینئر رکن کا کہنا ہے کہ پارٹی اب ہمایوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں سوچ رہی۔ ان کی رکنیت کی منسوخی کی درخواست دے کر پارٹی انہیں بلاوجہ اہمیت دینے کے حق میں نہیں ہے۔ ترنمول قیادت کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے وہ سیاسی طور پر خود کو ‘مظلوم’ یا ‘شہید’ ثابت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ہمایوں کبیر کو 4 دسمبر کو نظم و ضبط کی خلاف ورزی پر 6 سال کے لیے پارٹی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بیل ڈانگا میں ‘بابری مسجد’ کی تعمیر کے اعلان کی وجہ سے انہیں معطل کیا گیا۔ ہمایوں نے پہلے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں اپنا فیصلہ بدل لیا اور کہا کہ وہ رکن اسمبلی کا عہدہ نہیں چھوڑیں گے۔ پیر کے روز مرشد آباد میں ایک جلسے کے دوران انہوں نے اپنی نئی سیاسی جماعت ’جنتا اونین پارٹی‘ (JUP) کا باضابطہ اعلان کیا اور 2026 کے انتخابات کے لیے چند امیدواروں کے نام بھی بتا دیے۔
اگرچہ معطلی کی صورت میں دل بدل (Anti-Defection) قانون لاگو نہیں ہوتا، لیکن چونکہ ہمایوں نے اپنی نئی پارٹی بنا لی ہے، اس لیے تکنیکی طور پر وہ اس قانون کی زد میں آ سکتے تھے۔ تاہم، ترنمول کانگریس نے انہیں سیاسی طور پر نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مختصر یہ کہ ترنمول کانگریس ہمایوں کبیر کو کوئی بھی قانونی اہمیت دے کر ان کا سیاسی قد بڑھانا نہیں چاہتی۔

