علی پور چڑیا گھر کے چمگادڑوں میں نپاہ وائرس کا امکان
علی پور چڑیا گھر کے چمگادڑوں میں نپاہ وائرس کا امکان

این آئی وی نے خون اور تھوک کے نمونے جمع کر لیے۔
کولکاتا24جنوری :کیا علی پور چڑیا گھر کے چمگادڑ شہر کے باشندوں کے لیے محفوظ ہیں؟ کیا ان کے اندر نپاہ وائرس (Nipah Virus) نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے؟ اس خوف کو دور کرنے کے لیے چڑیا گھر کے چمگادڑوں کا آر ٹی-پی سی آر (RT-PCR) ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی کی ایک ٹیم نے چڑیا گھر کے چمگادڑوں کے خون اور تھوک (Swab) کے نمونے جمع کر لیے ہیں۔ یہ ٹیم صبح سویرے نمونے حاصل کر کے روانہ ہوگئی۔
نپاہ وائرس کے ماخذ کی تلاش کے لیے ریاست میں چمگادڑوں کا آر ٹی-پی سی آر ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں مدھیم گرام، باراسات اور بشیر ہاٹ کے علاقوں سے کچھ چمگادڑوں کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ کولکتہ میں صرف علی پور چڑیا گھر ہی ایسی جگہ ہے جہاں بڑی تعداد میں چمگادڑ پائے جاتے ہیں۔ نپاہ کے خوف کو ختم کرنے کے لیے اب چڑیا گھر کے چمگادڑوں کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے ادارے این آئی وی اور آئی سی ایم آر (ICMR) مل کر یہ معائنہ کر رہے ہیں، جس میں ریاست کا محکمہ جنگلات تعاون کر رہا ہے۔


