74برسوں سے رہ رہے تھے، ایک جھٹکے میں ان کا آشیانہ توڑ دیا گیا
74برسوں سے رہ رہے تھے، ایک جھٹکے میں ان کا آشیانہ توڑ دیا گیا

سیالدہ جنوبی شاخ کے 164 سال پرانے جادو پور ریلوے اسٹیشن سے متصل ایک تاریخی سائیڈنگ علاقے میں برسوں سے رہائش اختیار کیے ہوئے متعدد خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ یہ سائیڈنگ آزادی کے بعد 1952 میں اس وقت اہمیت اختیار کر گئی تھی، جب سیالدہ جنوبی شاخ کو مشرقی ریلوے کے شیالدہ ڈویڑن کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس کے بعد یہاں مال گاڑیوں سے سامان اتارنے اور ذخیرہ کرنے کا کام شروع ہوا، جس کے باعث علاقے میں مزدوروں اور کم آمدنی والے خاندانوں کی ایک بستی وجود میں آ گئی۔
مقامی لوگوں کے مطابق، گزشتہ تقریباً 74 برسوں سے کئی خاندان اس سائیڈنگ کے آس پاس رہ رہے تھے۔ حال ہی میں ریلوے کی جانب سے زمین خالی کرانے کی کارروائی کے دوران ان عارضی رہائش گاہوں کو منہدم کر دیا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں متعدد خاندانوں کے سر سے چھت چھن گئی اور وہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کئی افراد دہائیوں سے یہاں مقیم تھے اور ان کا روزگار بھی اسی علاقے سے وابستہ تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں متبادل رہائش فراہم کی جائے۔ دوسری جانب ریلوے حکام کا مو¿قف ہے کہ یہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اسے مختلف ترقیاتی اور آپریشنل مقاصد کے لیے خالی کرایا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد علاقے میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کے مستقبل اور ان کی بازآبادکاری کے سوالات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔

