کمبوڈیا سرحد پر بھگوان وشنو کے مجسمےکو مسمار کر دیا گیا
کمبوڈیا سرحد پر بھگوان وشنو کے مجسمےکو مسمار کر دیا گیا

کمبوڈیا کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب تھائی لینڈ کی جانب سے وشنو کے مجسمے کو مسمار کیے جانے پر بین الاقوامی سطح پر ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک سیکیورٹی اقدام تھا۔
بھارت کی جانب سے تھائی لینڈ-کمبوڈیا سرحد کے قریب بھگوان وشنو کے مجسمے کو گرائے جانے پر تشویش کے اظہار کے بعد تھائی لینڈ نے وضاحت جاری کی ہے۔ تھائی لینڈ نے اصرار کیا ہے کہ یہ ڈھانچہ کوئی رجسٹرڈ مذہبی مقام نہیں تھا اور یہ کارروائی خالصتاً سیکیورٹی خدشات کے باعث کی گئی تھی۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر دکھایا گیا ہے کہ 2014 میں تعمیر کیے گئے وشنو کے مجسمے کو اس ہفتے کے شروع میں متنازع سرحدی علاقے میں تھائی فوجی اہلکاروں نے بیکہو لوڈر (جے سی بی) کے ذریعے گرا دیا۔
دی ویک (The Week) کی رپورٹ کے مطابق، تھائی-کمبوڈیا بارڈر پریس سینٹر نے اس ردعمل پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس انہدام کا مقصد "مذہب یا عقائد کو شامل کرنا نہیں تھا”۔ یہ کارروائی تھائی افواج کی جانب سے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے بعد انتظامی انتظام اور سیکیورٹی کی خاطر کی گئی۔تھائی حکام نے مزید کہا کہ یہ مجسمہ بعد میں نصب کیا گیا تھا اور اسے مذہبی مقام کے طور پر کوئی سرکاری منظوری حاصل نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق، اس کی برطرفی کا مقصد ایسی علامتوں کو روکنا تھا جو حساس سرحد پر تناو¿ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ تھائی موقف کے مطابق، یہ مجسمہ متنازع سرحد کے ساتھ ‘چونگ آن ما’ کے علاقے میں واقع تھا اور تھائی لینڈ اسے کمبوڈیا کے فوجیوں کی جانب سے تھائی لینڈ کی دعویٰ کردہ زمین پر خودمختاری جتانے کے لیے نصب کردہ ایک نشان کے طور پر دیکھتا تھا۔


