ریاستی وزیر سبینہ یاسمین کی بڑی بیٹی کو سماعت کےلئے بلا یا گیا
ریاستی وزیر سبینہ یاسمین کی بڑی بیٹی کو سماعت کےلئے بلا یا گیا

ان کی بیٹی کی تفصیلات میںفرق پایا گیا ہے : الیکشن کمیشن
مالدہ کے موتھاباری سے ایم ایل اے اور ریاست کی وزیر آبپاشی و ترقی شمالی بنگال سبینہ یاسمین کی بڑی بیٹی فضا بنت عالم کو الیکشن کمیشن کی جانب سے سماعت کے لیے بلائے جانے پر سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔فضا کے جمع کردہ فارم میں ان کے والد کے نام کی تفصیلات میں فرق یا ‘میس میچ’ پایا گیا ہے۔ ایس آئی آر (SIR) کے دوسرے مرحلے میں دستاویزات کی دوبارہ جانچ پڑتال کے لیے یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ وزیر کی بڑی بیٹی فی الحال امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں دوسرے سال کی طالبہ ہیں اور گزشتہ دو سالوں سے وہیں مقیم ہیں۔وزیرسبینہ یاسمین نے اس واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تمام ضروری دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود ان کی بیٹی یا عام ووٹروں کو سماعت کے لیے کیوں بلایا جا رہا ہے۔ وزیر کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے اشارے پر عام لوگوں کو ہراساں کر رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عام ووٹروں کو اس طرح پریشان کر کے بی جے پی اسمبلی انتخابات میں کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکے گی۔ پارٹی کی جانب سے ایس آئی آر کے معاملے پر مسلسل احتجاجی پروگرام چلائے جا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی صورت میں حقیقی ووٹروں کے نام فہرست سے نکالے نہ جائیں۔ جنوبی مالدہ کے بی جے پی ضلع صدر اجے گنگوپادھیائے نے کمیشن کے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "فرضی ووٹوں” کے کٹنے کے خوف سے ترنمول لیڈر اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔مالدہ ضلع میں معلومات میں تضاد کی وجہ سے تقریباً 62 ہزار ووٹروں کو سماعت کے لیے بلایا گیا ہے۔


