کاکروچ پارٹی کے مظاہرین پولس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے

کاکروچ پارٹی کے مظاہرین پولس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئے

 

محمد جنید ملک، جو غازی آباد کے ایک کالج میں ایل ایل بی کا طالب علم ہے اور نئی دہلی کے جنتر منتھر پر کاکروچ جنٹا پارٹی (سی جے پی) کے مظاہرین کو 35 دن تک کھانا فراہم کرتا رہا، نے پولیس کی جانب سے ہراسانی اور حراست میں لیے جانے کے الزام میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ملک نے اپنی درخواست میں بتایا ہے کہ انہیں دہلی سے پولیس اہلکاروں نے اٹھایا اور تقریباً چھ گھنٹے تک ایک گاڑی میں رکھا، دھمکیاں اور ڈرایا دھمکایا گیا، اور آخر کار انہیں دہرادون کے ایک دور دراز مقام پر چھوڑ دیا گیا۔ یہ خبر قانونی ویب سائٹ لائیو لا نے منگل کی صبح رپورٹ کی۔
جنید نے غازی آباد میں پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "سینکڑوں لوگوں کی طرح میں بھی ہر روز مظاہرین کو کھانا فراہم کرتا تھا کیونکہ وہ ایک ایسے مقصد کے لیے جدوجہد کر رہے تھے جس کی میں حمایت کرتا ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہی دن دہلی پولیس نے انہیں بھی اٹھا لیا۔
انہوں نے بتایا، "مجھے معلوم ہوا کہ پولیس میری تلاش کر رہی ہے، میرے خاندان والوں نے فون کر کے بتایا کہ 23 جولائی کو شام 5 بجے پولیس نے دہرادون ضلع کے مسوری میں واقع نہال گاو¿ں میں میرے آبائی گھر پر چھاپہ مارا اور کچھ دستاویزات لے گئی، جن میں بینک پاس بک اور پین کارڈ شامل تھے۔ میرے والد محمد مصطفیٰ کو بھی تھانے لے جایا گیا۔” انہوں نے مزید کہا، "انہوں نے میرے والد کو رات 11 بجے رہا کیا لیکن میرے بہن کے سسرال میرٹھ پہنچ کر ان کے سسر کو تھانے لے گئے۔
بوڑھے شخص کو دیر رات رہا کر دیا گیا۔ دہرادون پولیس کی ایک اور ٹیم بظاہر میرٹھ کے اس مقام پر بھی گئی تھی، جو مسوری سے تقریباً 220 کلومیٹر دور ہے۔مسوری کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنیل کمار سنگھ نے کہا، "ہم ان کے مالی ذرائع کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ہم مصطفیٰ کو تھانے لائے تھے لیکن ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں چھوڑ دیا۔
جنید نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس کی جانب سے ان کے خاندان کے افراد کے خلاف جبری اقدامات روکنے کا حکم دے، جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ بغیر کسی بنیاد یا مناسب کاغذی کارروائی کے کیے گئے۔زینید کی درخواست آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن پارلیمان منوج کمار جھا کی اس رٹ پٹیشن میں دائر کی گئی ہے جس میں سی جے پی مظاہروں کے دوران پولیس تشدد کے
خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جیسا کہ لائیو لا نے اطلاع دی ہے۔
سپریم کورٹ نے منگل کے روز درخواستوں کے ایک بیچ کو سماعت کے لیے فہرست میں رکھا ہے جس میں امتحانی پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر 20 جولائی کے پولیس کریک ڈاو¿ن – جس میں لاٹھی چارج، آنسو گیس اور مبینہ طور پر پیلٹ گنوں سے فائرنگ شامل تھی – کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پیلٹ گن کے دو مبینہ متاثرین نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔اس بیچ میں ایک درخواست بھی شامل ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس پر حملہ کیا گیا۔
Back to top button
Translate »