رشتہ دار کے گھر جانے کےلئے نکلی تھی لیکن اسمگلروں کے چنگل میں پڑ کر بنگال آگئی
رشتہ دار کے گھر جانے کےلئے نکلی تھی لیکن اسمگلروں کے چنگل میں پڑ کر بنگال آگئی

عمر 13-14 سال کے قریب ہے۔ گھر بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں۔ ساتکھیرا ضلع میں خالہ کے گھر جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن جا نہیں پائی۔ آنکھ کھلی تو بھارت میں ایک اجنبی کے گھرمیں خود کو پایا۔بھارت-بنگلہ دیش سرحد سے متصل مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ کے سوروپ نگر میں ایک نابالغ لڑکی کو بے ہوشی کی حالت میں مقامی لوگوں نے برآمد کیا۔ ہوش میں آنے کے بعد اسے پولیس-انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا۔ ، لڑکی خواتین اسمگلروں کے چنگل میں پھنس گئی تھی۔ اسے بنگلہ دیش سے بھارت ا سمگل کیا گیا تھا۔ تاہم کسی صورتحال میں اسمگلر اسے چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
نابالغ سے تفتیش کر کے پولیس کو معلوم ہوا کہ دو دن قبل وہ بنگلہ دیش کے ساتکھیرا میں خالہ کے گھر جانے کے لیے نکلی تھی۔ راستے میں دو جاننے والے ملے۔ لڑکی کو جب معلوم ہوا کہ وہ ساتکھیرا جا رہی ہے، دونوں نے کہا کہ وہ بھی اسی طرف جا رہے ہیں اور اسے رشتہ داروں کے گھر پہنچا دیں گے۔ لڑکی سادہ اعتماد میں ان کے ساتھ چلی گئی۔
لڑکی کے دعوے کے مطابق، راستے میں دونوں جاننے والوں نے اسے پانی پلایا، جس کے بعد اسے کچھ یاد نہیں۔ ہفتہ کو سوروپ نگر کے ترالی سرحدی علاقے میں ایک اجنبی لڑکی کو مقامی چند افراد نے برآمد کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق، اس وقت لڑکی ہوش میں نہیں تھی۔ اسے ایک شخص کے گھر لے جایا گیا۔ آنکھ کھلنے پر اجنبی چہرے اور جگہ دیکھ کر لڑکی حیران رہ گئی۔ سنبھلنے کے بعد اس نے پوری واقعہ بیان کیا۔ علاقہ والوں نے سوروپ نگر تھانہ پولیس اور بی ایس ایف کو مطلع کیا۔ ہفتہ کو انہوں نے لڑکی کو برآمد کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کا قیاس ہے کہ ان دو جاننے والوں نے لڑکی کو رقم کے عوض اسمگلروں کے حوالے کیا تھا۔ لیکن اس کے بعد لڑکی کو بھارت کیسے لایا گیا، سرحد پر اس کام میں کون ملوث تھے، ان پہلوو¿ں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کسی رکاوٹ کا سامنا کرنے پر اسمگلر لڑکی کو چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ اس سلسلے میں ایک شخص کو تھانے بلا کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

