ابھیشیک کی کالی رقم ‘کیرل لابی’ میں! ریتو برتو کا گروپ ثبوت لے کر دہلی روانہ
ابھیشیک کی کالی رقم 'کیرل لابی' میں! ریتو برتو کا گروپ ثبوت لے کر دہلی روانہ
ایم پی ہونے کے ناطے بے پناہ مالی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال سے رقم کے غبن کے الزامات۔ یہاں تک کہ CAG رپورٹ میں بھی اس کے ثبوت ملے ہیں۔ ابھیشیک بندیوپادھیائے کی کالی رقم کہاں کہاں بھیجی گئی، اس کے ذرائع بھی CAG رپورٹ نے فراہم کیے ہیں۔ ڈائمنڈ ہاربر کے رکن پارلیمان کے خلاف اتنے بڑے بڑے الزامات محض حکمراں کیمپ کا ہتھیار نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے ‘باغی’ رتربرت بندیوپادھیائے کے کیمپ کو اضافی آکسیجن فراہم کی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ابھیشیک کے خلاف ان الزامات کے ثبوت بھی انہیں مل گئے ہیں۔ انہیں لے کر رتربرت کے گروپ دہلی میں شکایت کرنے جا رہے ہیں۔
ابھیشیک بندیوپادھیائے کی پہل پر پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ‘سیباشرے’ کیمپ لگائے گئے تھے۔ ڈائمنڈ ہاربر پارلیمانی حلقے کی ساتوں اسمبلی حلقوں میں پچھلے دو سالوں سے یہ صحت کیمپ لگ رہے ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سیباشرے کے نام پر دراصل بے پناہ مالی غبن ہوا ہے۔ بہت سے لوگوں کا صحیح علاج نہیں ہوا۔ سیباشرے کی بدعنوانی میں ‘کیرل لابی’ کا نام بھی جوڑا گیا! اس غیر قانونی رقم کو کیرل کے ضمنی انتخاب میں استعمال کیا گیا ہے، یہ الزام حال ہی میں ‘اصلی’ ترنمول کے رتربرت بندیوپادھیائے نے لگایا ہے۔ وہ یہیں نہیں رکے۔ ان کا مزید الزام ہے کہ کیرل میں امیدوار کھڑا کرنے سے لے کر ایک بیچ ریزورٹ میں خصوصی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد اسے کالی رقم کی محفوظ جگہ کے طور پر مشہور یورپ کے بدنام زمانہ کیمین آئی لینڈ بھیج دیا گیا۔
یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب رتربرت بندیوپادھیائے کی قیادت میں باغی دھڑے نے ترنمول کانگریس کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے، جس میں مبینہ طور پر 61 ایم ایل اے شامل ہیں۔ انہوں نے ابھیشیک پر بدعنوانی اور جابرانہ رویہ کا الزام لگایا ہے۔ ان کے اس گروپ نے مبینہ طور پر ممتا اور ابھیشیک کے بینکوں میں موجود ‘سفید رقم’ تک رسائی روکنے کی حکمت عملی بھی بنائی ہے، جس کا حجم 1100 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ رتربرت کے گروپ کا دعویٰ ہے کہ انتخابی کمیشن کو دی گئی مجموعی فائلنگ میں نظر نہ آنے والے چھوٹے اکاو¿نٹس اور علاقائی ٹرسٹوں میں اضافی 300-500 کروڑ روپے کی جائز رقم موجود ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ابھیشیک کی چارٹرڈ فلائٹ کی لاگت ‘کٹ منی’ (غیر قانونی کمیشن) یا بھتہ خوری سے حاصل کردہ رقم سے پوری کی گئی۔ ان کے اس گروپ نے حال ہی میں کلکتہ پولیس کے سائبر سیل میں باضابطہ شکایت بھی درج کروائی تھی۔ اس شکایت کے نتیجے میں پولیس نے پارٹی کے تین بینک اکاو¿نٹس منجمد کر دیے، جن میں 440 کروڑ روپے تھے۔

