
درخت لگا کر صرف تصویر کھینچنا کافی نہیں”، شوویندو کا ہریالی پر سخت موقف
درخت لگا کر صرف تصویر کھینچنا کافی نہیں"، شوویندو کا ہریالی پر سخت موقف
"ایک درخت ایک جان” – یہ کہاوت صرف الفاظ یا تحریر تک محدود نہیں رہنی چاہیے، بلکہ اسے عملی جامہ پہنانا ہی انسانیت کی بڑی مصیبتوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ گلوبل وارمنگ کے اس دور میں یہ بات اب بخوبی سمجھ آ چکی ہے۔ اس کے باوجود ہم میں شعور ابھی تک مطلوبہ حد تک پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ماحول کو صحت مند رکھنے کے لیے شجرکاری کی اہمیت سمجھانے کے ساتھ ساتھ اسے عملی شکل دینے میں بنگال کے وزیراعلیٰ شوویندو ادھیکاری پیش پیش ہیں۔ منگل کو انہوں نے موہرکنج میں مرکزی پروجیکٹ "ایک درخت ماں کے نام” میں شرکت کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے درخت لگایا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ عوام سے درختوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے خصوصی پیغام بھی دیا۔ اس دن کی تقریب میں وزیراعلیٰ نے محکم? جنگلات کے لیے خوشخبری سنائی۔ پوجا کے مہینے سے فارسٹ رینجرز، گارڈز اور جنگلاتی معاونین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔
موہرکنج کی تقریب سے شوویندو ادھیکاری نے ہریالی کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا: "میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ درخت لگا کر تصویر کھینچتے ہیں اور پوسٹ کر دیتے ہیں۔ لیکن تصویر کھینچ لینے سے ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ کم از کم دو سال تک اس درخت کی دیکھ بھال ضروری ہے۔ کولکاتا کو خوبصورت رکھنے کے لیے اس کے پھیپھڑوں کو زندہ رکھنا ہوگا، اس لیے یہاں مزید درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ جب کبھی ہم کام کے سلسلے میں ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں تو اوپر سے نظر آتا ہے کہ نیو ٹاو¿ن کی طرف زیادہ تر حصہ سرسبز ہے، باقی خاکستری۔ ہر طرف ہریالی کا لمس نہ ہو تو اچھا نہیں لگتا۔ آج ہم 50 درخت لگا رہے ہیں۔ مینگروو جنگلات کو بچانے کے لیے3 کروڑ درخت دیے جائیں گے۔ محکمہ جنگلات نے بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ سب کا بہت شکریہ۔


