اسرائیل اور مراکش کے درمیان سفارت خانے کھولنے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

اسرائیل اور مراکش کے درمیان سفارت خانے کھولنے اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مراکش کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی نمائندگی کی سطح کو سفارت خانوں کی سطح تک بڑھانے اور دو نوں ملکوں کے درمیان سفیروں کو نامزد کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کرنے کے تقریباً 6 سال بعد ہوا ہے، جس پر ستمبر 2020 میں وائٹ ہاؤس میں دستخط کیے گئے تھے۔

یہ فیصلہ نیویارک میں ہونے والے ایک سہ فریقی اجلاس کے دوران کیا گیا جس میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیدعون ساعر، ان کے مراکشی ہم منصب ناصر بوريطہ اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز شامل تھے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تینوں ممالک نے ملاقات کے دوران اسرائیل اور مراکش کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کے ایک ایسے سلسلے کے عزم کی تجدید کی، جن میں سفارتی مشنز کی سطح کو سفارت خانوں کی سطح تک بڑھانا اور دو سفیروں کی تقرری شامل ہے۔

اس معاہدے میں اقتصادی اقدامات بھی شامل تھے، جن میں 2026 کے آخر تک سرمایہ کاری کے تحفظ اور دہرے محصول سے بچنے سے متعلق دو معاہدوں کو حتمی شکل دینا شامل ہے، جس کا مقصد باہمی سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینا ہے، اس کے علاوہ مراکشی ایئرلائنز کی طرف سے چلائی جانے والی پروازوں کو شامل کرنے کے لیے پروازوں کو وسعت دینا ہے، اور یہ قدم 2026 کے آخر تک نافذ العمل ہو جائے گا۔

اسی طرح آنے والے مہینوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے باہمی دورے کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب نے پورے صحرائے مغربی خطے پر مراکش کی خودمختاری کے اپنے اعتراف کی تجدید کی۔

واضح رہے کہ مراکش ان چار عرب ممالک میں شامل تھا جنہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے معاہدوں کے فریم ورک کے اندر 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف قدم اٹھائے تھے۔

یاد رہے کہ مراکش نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بدلے میں پولساریو فرنٹ کے ساتھ متنازع صحرائے مغربی پر مراکش کی خودمختاری کا امریکی اعتراف حاصل کیا تھا۔

Back to top button
Translate »