
پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے برجر ہاو¿س میں خصوصی ورکشاپ
پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے برجر ہاو¿س میں خصوصی ورکشاپ
بھارت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں ایک نئے دور کی جھلک نظر آ رہی ہے۔ ’ترقی یافتہ بھارت 2047‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تعمیراتی کام جاری ہیں۔ تاہم صرف نئے پل یا سڑکیں بنانا کافی نہیں ہے۔ ’نیٹ زیرو 2070‘ کے ہدف تک پہنچنے کے لیے ان بنیادی ڈھانچوں کو طویل عرصے تک پائیدار بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔
فی الحال ملک کے ان قومی اثاثوں کو خاموشی سے تباہ کرنے والی ایک بڑی وجہ کورروڑن یا زنگ و خوردگی ہے۔ ایک حالیہ صنعتی جائزے میں چونکا دینے والی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ہر سال اس خوردگی کی وجہ سے بھارت کو تقریباً 14 لاکھ کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اس بھاری نقصان کے معمولی حصے کو بھی روکا جا سکے تو اتنی رقم تعلیم اور صحت جیسے عوامی فلاحی کاموں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں خوردگی کو روکنے کے حوالے سے بیداری بڑھانے کے لیے ’برجر پینٹس انڈیا‘ نے ایک اہم قدم اٹھایا۔ اس میں ’کنسلٹنگ انجینئرز ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ (CEAI) نے تعاون کیا۔ گزشتہ 11 ستمبر کو کولکاتا کے برجر ہاو¿س میں ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں فیبریکیشن، فن تعمیر اور سول انجینئرنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے 70 سے زائد سرکردہ ماہرین نے شرکت کی۔
بحث کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ صرف ابتدائی لاگت کو مدنظر رکھنا کافی نہیں ہے۔ پائیداری اور طویل مدتی ’لائف سائیکل ویلیو‘ پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ روایتی طریقہ? کار کو تبدیل کرکے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اس سلسلے میں فلورو پولیمر (Fluoropolymer) جیسی جدید ٹیکنالوجی بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ تاہم صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں ہے۔ سطح کو مناسب طریقے سے تیار کرنا، ماہر کارکنوں کا استعمال، باقاعدہ معائنہ اور مناسب دیکھ بھال بھی انتہائی ضروری ہے۔
طویل تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے برجر نے ’پروٹیکٹن‘ (Protecton) کے ذریعے فرش سے چھت تک حفاظتی نظام تیار کیا ہے۔ وسیع پیداواری صلاحیت اور ملک گیر سپلائی نیٹ ورک کے ذریعے یہ خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی اختیار کرنے اور معیار طے کرنے کے عمل میں سرکاری سطح پر کوٹنگ کے ماہرین کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔
ترقی کے اس سفر کو مختصراً ’3-C‘ فارمولے میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلا، رابطے کے ذریعے بیداری (Communication)۔ دوسرا، مختلف شعبوں کے درمیان تعاون (Collaboration)۔ اور تیسرا، مشترکہ طور پر حل تلاش کرنا (Co-creation)۔ اسی راستے پر چل کر حقیقی ترقی اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔


