
نندی گرام کی بی جے پی امیدوار ہاسیرانی کے حلف نامے کوکانگریس نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا
نندی گرام کی بی جے پی امیدوار ہاسیرانی کے حلف نامے کوکانگریس نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا
مغربی بنگال پردیش کانگریس نے نندی گرام کی بی جے پی امیدوار ہاسیرانی رتھ کے انتخابی حلف نامے کو چیلنج کرتے ہوئے کلکتہ ہائی کورٹ کی توجہ مبذول کرائی۔ الزام ہے کہ حلف نامے میں بی جے پی امیدوار کی تاریخِ پیدائش اور میٹرک پاس کرنے کے سال کو لے کر تضاد موجود ہے۔ بدھ کو کانگریس رہنما اور وکیل نے جسٹس کرشنا راو¿ کی عدالت کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کرائی۔
ان کا کہنا تھا کہ حلف نامے میں پیدائش اور تعلیمی قابلیت سے متعلق جو معلومات دی گئی ہیں، وہ بظاہر ممکن نہیں ہیں۔ حلف نامے میں بی جے پی امیدوار نے اپنی عمر 60 سال سے زیادہ بتائی ہے، یعنی ان کی پیدائش تقریباً 1966 میں ہوئی ہوگی۔ جبکہ حلف نامے کے مطابق انہوں نے 1965 میں میٹرک پاس کیا تھا۔ کانگریس نے سوال اٹھایا کہ پیدائش سے پہلے وہ میٹرک کیسے پاس کر سکتی ہیں۔
جسٹس کرشنا راو¿ نے اس کے بعد دریافت کیا کہ وہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں۔ کانگریس رہنما اور وکیل نے بتایا کہ ہاسیرانی رتھ کی امیدواری منسوخ کی جائے۔ انتخابی کمیشن نے ان کے حلف نامے کی جانچ کی ہے، لیکن اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اگر تعلیمی قابلیت سے متعلق معلومات جعلی ہیں تو ان کی امیدواری منسوخ کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امیدواری منسوخ بھی ہوتی ہے تو ضمنی انتخاب پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ دیگر امیدوار بھی موجود ہیں۔ رجو نے عدالت سے معاملے کی جلد سماعت کی درخواست کی۔ جسٹس نے مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دے دی۔ جمعرات کو سماعت کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ انتخابی حلف نامے میں عمر اور تعلیمی قابلیت سے متعلق معلومات میں تضاد کا الزام لگاتے ہوئے پردیش کانگریس نے منگل کو ہی انتخابی کمیشن سے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک بیان میں پردیش کانگریس کے صدر شوبھنکر سرکار نے دعویٰ کیا کہ حلف نامے میں ”سنگین تضاد“ کا الزام سامنے آنے کے باوجود انتخابی کمیشن نے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ تاہم، بی جے پی نے کانگریس کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ بی جے پی نے ہاسیرانی کے خلاف کانگریس کی اس کوشش کو ”ناکام کوشش“ قرار دیتے ہوئے طنز بھی کیا ہے۔


