ریاست کے ’غنڈہ دمن‘ بل پر صدرِ جمہوریہ نے دستخط نہیں کیے

ریاست کے ’غنڈہ دمن‘ بل پر صدرِ جمہوریہ نے دستخط نہیں کیے

ریاستی اسمبلی میں منظور کیے گئے ’غنڈہ دمن‘ بل پر صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے دستخط نہیں کیے۔ بلکہ بل پر دوبارہ غور کرنے کے لیے اسے ریاست کے پاس واپس بھیج دیا گیا ہے۔ مجوزہ غنڈہ دمن بل میں درج دفعات کے مرکزی منشیات مخالف قانون ’این ڈی پی ایس‘ سے ٹکراو¿ پیدا ہونے کے باعث مرکزی وزارتِ داخلہ کی سفارش پر صدرِ جمہوریہ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے دیے گئے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ بل کی شق بی میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص ’نیشنل ڈرگ اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ، 1985‘ کے تحت قابلِ سزا جرم کرتا ہے، جرم کرنے کی کوشش کرتا ہے، جرم میں مدد کرتا ہے یا مجرم کو مالی یا دیگر سہولت فراہم کرتا ہے، تو اسے ’غنڈا‘ قرار دیا جائے گا۔

لیکن مجوزہ قانون میں ایسے شخص کو جس طریقے سے احتیاطی حراست (یعنی شبہ کی بنیاد پر حراست) میں رکھنے کی بات کہی گئی ہے، وہ ’پریوینشن آف الیسٹ ٹریفک اِن نارکوٹک ڈرگز اینڈ سائیکوٹروپک سبسٹینسز ایکٹ، 1988‘ کے منافی ہے۔ اس مرکزی قانون میں منشیات اور سائیکوٹروپک مادّوں کی غیر قانونی تجارت کرنے والوں کی احتیاطی حراست کے لیے الگ دفعات موجود ہیں۔

Back to top button
Translate »