
نندی گرام میں بی جے پی امیدوار کا نامزدگی پرچہ منسوخ ہوگا؟
نندی گرام میں بی جے پی امیدوار کا نامزدگی پرچہ منسوخ ہوگا؟
نندی گرام کی بی جے پی امیدوار ہاسیرانی رتھ کے حلف نامے پر اعتراض کرتے ہوئے کانگریس کی جانب سے کلکتہ ہائی کورٹ میں دائر کیے گئے مقدمے کی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت نے فی الحال اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ اس مقدمے کی سماعت ہائی کورٹ کے جسٹس کرشن راو¿ کی عدالت میں ہوئی۔
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کے مقتول سابق ذاتی معاون چندرناتھ رتھ کی والدہ ہاسیرانی کو بی جے پی نے آئندہ ضمنی انتخاب کے لیے نندی گرام سے امیدوار بنایا ہے۔ چندرناتھ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے دو دن بعد قتل کر دیے گئے تھے۔ ان کی والدہ نے نندی گرام سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم کانگریس نے ان کے انتخابی حلف نامے پر سوال اٹھایا ہے۔
الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس تعلیمی قابلیت کے ثبوت کے طور پر ہاسیرانی نے جو میٹرک کا سرٹیفکیٹ جمع کرایا ہے، اس میں 1965 میں میٹرک پاس کرنے کی بات درج ہے۔ دوسری جانب امیدوار نے بتایا ہے کہ ان کی عمر 60 سال سے زیادہ ہے۔ اس حساب سے ان کی پیدائش تقریباً 1966 میں ہوئی ہوگی۔ کانگریس نے طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا ہے کہ آخر پیدائش سے پہلے ہی انہوں نے میٹرک کیسے پاس کر لیا؟ اسی معاملے کو لے کر ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔
درخواست گزار کا کہنا ہے کہ حلف نامے کے مطابق ہاسیرانی نے چوکالی گنگاخالی بالیکا ودیالیہ سے میٹرک پاس کیا ہے۔ یا تو وہ اپنی عمر کے بارے میں غلط بیانی کر رہی ہیں، یا پھر میٹرک کا یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔ دونوں باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں۔ کانگریس نے ان کی نامزدگی منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔
عام طور پر جب کوئی امیدوار حلف نامہ جمع کراتا ہے تو اس کی معلومات کی جانچ ریٹرننگ افسر اسکرونٹی کے دوران کرتے ہیں۔ اس معاملے میں کمیشن کا موقف ہے کہ اس جانچ کے دوران اگر کسی نے اعتراض اٹھایا ہو تو وہ قابلِ قبول ہے۔ لیکن اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد درخواست گزار کو اس معاملے پر دوبارہ سوال اٹھانے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر یہ مفادِ عامہ کی عرضی ہوتی تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا۔ لیکن نامزدگی جمع کراتے وقت کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے اب کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ کمیشن کے وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ میٹرک کا سرٹیفکیٹ جعلی ہے یا نہیں، یہ امیدوار کی نامزدگی منسوخ کرنے کی مضبوط وجہ نہیں ہو سکتی۔
ہاسیرانی کے وکیل جے دیپ کر نے کہا کہ جس وقت حلف نامے میں درج معلومات کی بنیاد پر اعتراض کیا جانا چاہیے تھا، اس وقت ایسا نہیں کیا گیا۔ اب عدالت امیدوار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ اس کے علاوہ یہ جان بوجھ کر کی گئی کوئی غلطی نہیں ہے۔ اس لیے ان کے مو¿کل ہاسیرانی کو موقع دیا جانا چاہیے۔ جسٹس راو¿ نے تمام فریقوں کے دلائل سنے۔ سماعت مکمل ہونے کے بعد انہوں نے فیصلہ محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
نندی گرام میں 6 اکتوبر کو ضمنی انتخاب ہوگا۔ اس حلقے سے اسمبلی انتخابات میں شوبھندو ادھیکاری کامیاب ہوئے تھے۔ وہ بھوانی پور سے بھی جیت گئے تھے، اس لیے انہوں نے نندی گرام کی نشست چھوڑ دی۔ اسی وجہ سے وہاں ضمنی انتخاب کرانا پڑ رہا ہے۔ 9 اکتوبر کو نندی گرام ضمنی انتخاب کے نتائج کا اعلان ہوگا۔ اس حلقے سے ممتا ترنمول کے امیدوار نے پہلے ہی نامزدگی واپس لے لی ہے۔ کانگریس امیدوار ملن پردھان کو پولیس نے ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔


