
لفافہ انتخابی نشان کے معاملے میں ہائی کورٹ برہم، فیصلہ محفوظ
لفافہ انتخابی نشان کے معاملے میں ہائی کورٹ برہم، فیصلہ محفوظ
لفافہ انتخابی نشان سے متعلق تنازع کے مقدمے کی سماعت مکمل ہوگئی ہے۔ تاہم کلکتہ ہائی کورٹ نے فیصلہ سنانے کو فی الحال مو¿خر کر دیا ہے۔ جسٹس کرشنا راو¿ نے اس مقدمے میں فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران بھی عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
ریاست کے دو اسمبلی حلقوں نندی گرام اور ریجینگر میں آئندہ 6 اکتوبر کو ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ اس سے پہلے ’لفافہ‘ انتخابی نشان کو لے کر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اپنے عبوری حکم کے تحت یہ نشان رتِبرتا کے خیمے کو دیا ہے۔ حالانکہ یہ نشان ہمیشہ سے آئی ایس ایف کے پاس رہا ہے۔ کمیشن کے اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے ناو¿شاد صدیقی نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
اس مقدمے میں عدالت نے الیکشن کمیشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس کرشنا راو¿ نے کہا، ”اگر الیکشن کمیشن جانبدارانہ رویہ اختیار کرے تو پھر عدالت کے پاس کیا کرنے کو رہ جاتا ہے؟ کمیشن کا فیصلہ غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ اگر یہ نشان کسی کو بھی نہیں دیا جاتا تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ فری سمبل ٹھیک ہے، لیکن پھر آپ نے یہ نشان کسی دوسرے کو کیوں دیا؟ اسمبلی انتخابات میں جس جماعت نے ایک نشان پر الیکشن لڑا تھا، وہی نشان آپ نے کسی اور کو کیوں دے دیا؟“
الیکشن کمیشن کی جانب سے جواب دیا گیا، ”کسی بھی سیاسی جماعت کو ایک ہی فری سمبل دو مرتبہ سے زیادہ نہیں دیا جا سکتا۔ انتخابی نشان کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ جہاں قانونی حق موجود ہی نہیں، وہاں دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟“


