
شوبھندونے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی حمایت کی
شوبھندونے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی حمایت کی
وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے اتوار کو گیانیش کمار سے متعلق تنازع پر اپنی واضح خاموشی ختم کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کا دفاع کیا اور ممتا بنرجی، سی پی ایم اور کانگریس کو نشانہ بنایا۔ان کے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب بنگال میں ایس آئی آر کے دوران لاکھوں ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اثر پڑنے کے معاملے کو لے کر سیاسی تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔
ممتا بنرجی اور سی پی ایم کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی سیاسی قربت کو نشانہ بناتے ہوئے سوویندو نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ بنگال کے ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کے بارے میں ”الجھن اور گمراہ کن معلومات“ پھیلا رہی ہے، تاکہ بنگال کے انتخابی نتائج پر شکوک پیدا کیے جا سکیں۔
کولکاتا میں بی جے پی کے ریاستی دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کیرالہ اور بنگال کا موازنہ کیا اور الزام لگایا کہ انتخابی نتائج کے مطابق اپوزیشن کا ایس آئی آر کے بارے میں موقف بدل جاتا ہے۔انہوں نے کہا، ”کیرالہ میں ایس آئی آر بہت اچھا اور بہت خوشگوار ہے کیونکہ وہاں کانگریس نے (انتخابات) جیتے ہیں۔ کانگریس کہتی ہے کہ اگر کیرالہ میں ایس آئی آر نہیں ہوا ہوتا تو سی پی ایم اقتدار میں برقرار رہتی۔ لیکن بنگال میں یہ تلخ ہے کیونکہ ہم (بی جے پی) نے واضح اکثریت کے ساتھ انتخابات جیتے ہیں۔“
کیرالہ کے ایس آئی آر پر کانگریس کے موقف نے سیاسی بحث چھیڑ دی ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے کہا ہے کہ ڈپلیکیٹ اندراجات ختم کیے جانے کی وجہ سے اس کارروائی سے کانگریس کی قیادت والے اتحاد کو فائدہ پہنچا ہوگا۔ تاہم تھرور نے بنگال میں ایس آئی آر پر سوالات اٹھائے تھے۔
سوویندو نے کہا، ”ترنمول کانگریس، جو اب ممتا ترنمول کانگریس ہے، گزشتہ اسمبلی انتخابات میں شکست کھا چکی ہے، لیکن وہ عوام کے اس مینڈیٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جس کے ذریعے ہم نے 208 نشستیں جیتی ہیں۔“شوبھندونے مزید کہا، ”جس زبان میں آپ منتخب حکومت پر حملہ کر رہے ہیں، جسے 2.92 کروڑ ووٹ ملے ہیں، اور الیکشن کمیشن کو شامل کرتے ہوئے جو جھوٹی تشہیر آپ کر رہے ہیں، خالی میدانوں میں کھڑے ہو کر ’آزادی، آزادی‘ کے نعرے لگانا، یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ عوام کے اس بڑے مینڈیٹ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔“شوبھندونے ہفتہ کو تینوں الیکشن کمشنروں کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کیا کہ گیانیش نے ایس آئی آر سے متعلق اہم فیصلے من مانی اور یک طرفہ طور پر کیے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلے ”متفقہ طور پر“ لیے گئے تھے، ”لہٰذا ایک فرد کے گرد جو سیاسی مہم چلائی جا رہی ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔“
شوبھندونے بنگال کی انتخابی فہرستوں سے 27.16 لاکھ نام حذف کیے جانے کی سیاسی ذمہ داری ایس آئی آر سے متعلق ترنمول کی جانب سے دائر مقدمات کے بعد شروع ہونے والے عدالتی عمل پر ڈالنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا، ”بہار سے شروع کرتے ہوئے ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال کے بارے میں مختلف طریقوں سے عدالتوں سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی رضامندی سے عدالتی افسران کو مقرر کیا اور منطقی تضادات کو حل کرنے کی کوشش کی۔“انہوں نے کہا، ”60 لاکھ منطقی تضادات کے معاملات میں سے 27 لاکھ معاملات مسترد کر دیے گئے۔ یہ کسی حکومت نے نہیں کیا، بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات پر کیا گیا۔“انہوں نے مزید کہا، ”اس کی ذمہ داری نہ مرکزی یا ریاستی حکومت کے کسی افسر پر ہے، نہ بی جے پی پر، بلکہ سپریم کورٹ اور عدلیہ کے اس فیصلے پر ہے، جو آپ (ترنمول) کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں دیا گیا۔“شوبھندونے ممتا بنرجی اور سی پی ایم کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی کے درمیان الیکشن پینل کے تنازع پر مبینہ خط و کتابت اور فون پر ہونے والی بات چیت پر بھی طنز کیا۔انہوں نے کہا، ”آج سی پی ایم ترنمول کی دوست بن گئی ہے۔ ہم نے چند روز قبل اسمبلی کے اندر یہ دوستی دیکھی، جب یونیورسٹی کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے سے متعلق بل پیش کیا گیا تھا۔ اس دن ڈالے گئے 15 ووٹوں میں ممتا ترنمول کے رہنماو¿ں اور واحد سی پی ایم رکن اسمبلی کے ووٹ بھی شامل تھے۔“انہوں نے کہا، ”جس پارٹی کی بنیاد سی پی ایم کے 34 سالہ جبر، ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف رکھی گئی تھی، وہ اب انہی کے ساتھ ہاتھ ملا رہی ہے۔“جب ان سے پوچھا گیا کہ اپوزیشن ایس آئی آر کی مہم کیوں تیز کر رہی ہے، تو وزیر اعلیٰ نے اسے ترنمول کے رہنماو¿ں اور سابق ریاستی انتظامیہ سے متعلق مختلف تحقیقات اور قانونی کارروائیوں سے جوڑ دیا۔انہوں نے کہا، ”لوگوں کی توجہ ان تمام معاملات سے ہٹانے کے لیے ایس آئی آر کے بارے میں الجھن پیدا کی جا رہی ہے۔“


