عدالت نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی ہے، تاہم مقدمہ منظور کر لیا
عدالت نے فوری سماعت کی درخواست مسترد کر دی ہے، تاہم مقدمہ منظور کر لیا

سیاسی تبدیلی کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس کے رہنماو¿ں کی بدعنوانی کے ایک کے بعد ایک معاملے سامنے آ رہے ہیں۔ اس دوران کئی بااثر رہنما گرفتار ہو چکے ہیں۔ زمینی بدعنوانی میں سابق ڈپٹی میئر آتین گھوش کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ کسی بھی وقت گرفتاری کے خدشے کے تحت آتین گھوش نے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا ہے۔ انہوں نے فوری سماعت کی درخواست بھی کی ہے، تاہم عدالت نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
منگل کو جسٹس جے سین گپتا کے بنچ میں آتین گھوش نے فوری سماعت کی درخواست پیش کی۔ عدالت سے ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بتایا گیا کہ مقدمے کے مدعی کے قریبی فرد (ممکنہ طور پر والدہ) کینسر میں مبتلا ہیں، تاہم اس سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس دن جسٹس نے کہا، "اس قسم کے مقدمات کی وجہ سے ہم عام لوگوں کے مقدمات نہیں سن پا رہے، ان کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔” بتایا گیا ہے کہ آئندہ جمعرات کو اس مقدمے کی سماعت ہو سکتی ہے۔
واضح رہے کہ سیاسی تبدیلی کے بعد متعدد ترنمول رہنماو¿ں کے خلاف زمین اور مکان ہتھیانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ریاست کے مختلف حصوں میں شکایات درج کی گئی ہیں۔ پولیس تحقیقات میں اتر کر متعدد مقامات سے ترنمول رہنماو¿ں کو گرفتار بھی کر رہی ہے۔ کئی جگہوں پر ترنمول رہنماو¿ں کے خلاف انڈے بھی پھینکے جا رہے ہیں۔ اس فہرست میں آتین گھوش کا نام بھی شامل ہے۔ حال ہی میں کلکتہ کے ترنمول رہنما اور سابق ایم ایل اے آتین گھوش کے خلاف بدعنوانی، زبردستی زمین اور مکان ہتھیانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مدعی بیدھان نگر کا رہائشی ایک تاجر ہے۔ مدعی کا دعویٰ ہے کہ ان سے زبردستی گھر اور زمین کم قیمت پر ہتھیا لی گئی تھی۔ یہ واقعہ 2017 میں پیش آیا۔ صرف ترنمول رہنما ہی نہیں، بلکہ آتین کی بیٹی اور داماد کے خلاف بھی تھانے میں تحریری شکایت درج کی گئی ہے۔


