جلوس میں باجے کی آواز کم کرنے کی درخواست پر دو دیہاتیوں کے قتل معاملے میں16قصوروار

جلوس میں باجے کی آواز کم کرنے کی درخواست پر دو دیہاتیوں کے قتل معاملے میں16قصوروار

معمولی بات پر جھگڑا ہوا، اور وہ جھگڑا خونریز تصادم میں تبدیل ہوگیا۔ دو دیہاتیوں کی جان چلی گئی۔ 29 سال قبل مرشدآباد کے بھرت پور تھانے کے منسی پور گاو¿ں میں ہوئے دوہرے قتل کے معاملے میں کانڈی سب ڈویڑنل عدالت نے سزا سنائی ہے۔ جج نے 16 قصورواروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔
1998 میں 24 مئی کو منسی پور گاو¿ں سے ایک جلوس گزر رہا تھا۔ جلوس میں بہت تیز آواز میں باجے بج رہے تھے۔ اسی دوران اسی سڑک پر مخالف سمت سے دو دیہاتی بھینسوں سے کھینچی جانے والی گاڑی لے کر آ رہے تھے۔ دونوں دیہاتیوں کو خدشہ تھا کہ اتنے زیادہ شور سے بھینسیں پریشان ہوکر بے قابو ہوسکتی ہیں۔ اسی خدشے کے باعث انہوں نے جلوس کے منتظمین اور حامیوں سے آواز کم کرنے کی درخواست کی۔
الزام ہے کہ آواز کم کرنے کی درخواست کیوں کی گئی، یہ سوال اٹھاتے ہوئے جلوس میں شامل حامیوں نے دونوں دیہاتیوں پر حملہ کر دیا۔ دونوں دیہاتیوں اور حامیوں کے درمیان بحث و تکرار شروع ہوگئی۔ الزام ہے کہ بانس اور لاٹھیوں سے دونوں دیہاتیوں کو مارا پیٹا گیا۔ وہ خون آلود حالت میں سڑک پر گر پڑے۔ بعد میں انہیں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کو مردہ قرار دے دیا۔اس واقعے کے بعد گاو¿ں میں کشیدگی پھیل گئی۔ مقتولین کے اہل خانہ اور گاو¿ں والوں نے قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔
اس واقعے کے سلسلے میں 26 افراد کے خلاف کانڈی سب ڈویڑنل عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا۔ قانونی جنگ شروع ہوئی اور سال گزرتے گئے۔ مقتولین کے اہل خانہ انصاف کی امید میں عدالت کے چکر لگاتے رہے۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان میں سے چار کی موت ہوگئی۔ باقی 22 افراد کے خلاف مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر پیر کو عدالت نے اس مقدمے میں فیصلہ سنا دیا۔22 ملزمان میں سے چھ افراد کو ثبوتوں کی کمی کی بنیاد پر عدالت نے بری کر دیا۔ تاہم 29 سال قبل پیش آنے والے اس واقعے میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے پر باقی 16 افراد کو قصوروار قرار دیتے ہوئے جج نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی۔
Back to top button
Translate »