
پانچ دن تک بخار رہتے ہی اب ELISA ٹیسٹ کرنے کا مشورہ
پانچ دن تک بخار رہتے ہی اب ELISA ٹیسٹ کرنے کا مشورہ
3,700 افراد کا ڈینگی ٹیسٹ کیا گیا ہے، جن میں سے 128 افراد ڈینگی پازیٹو پائے گئے ہیں۔ محکمہ? صحت کی ویب سائٹ پر ڈینگی سے متعلق دستیاب تازہ ترین معلومات یہی ہیں۔ اس وقت ڈینگی سے متاثرہ 256 مریض اسپتال میں داخل ہیں۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ صحت نے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ بخار کے پہلے پانچ دنوں کے اندر ڈینگی کی تشخیص کے لیے NS1 اینٹی جن ELISA ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ پانچ دن گزرنے کے بعد IgM ٹیسٹ کرنا ہوگا۔
بدھ کے روز ڈینگی کی صورتحال پر ایک ورچوئل میٹنگ منعقد کی گئی۔ اس اہم میٹنگ میں وزیرِ صحت ڈاکٹر شاردوت مکھرجی، ریاست کی چھ میونسپل کارپوریشنوں، چھ میونسپلٹیوں، تمام میڈیکل کالجوں کے نمائندے اور ضلع مجسٹریٹس موجود تھے۔ ورچوئل میٹنگ میں کولکاتا، ہاوڑہ، سلی گوڑی، بدھان نگر، درگا پور اور آسنسول میونسپل کارپوریشنوں کے کمشنر بھی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، ریاست میں ڈینگی سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد پہلے ہی 9 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ڈینگی کے پھیلاو¿ کے معاملے میں اس وقت مرشدآباد سب سے آگے ہے۔ متاثرین کی تعداد کے لحاظ سے اس کے بعد کولکاتا، شمالی و جنوبی 24 پرگنہ اور ہگلی کا نمبر ہے۔
بدھ کی میٹنگ کے بعد محکمہ صحت نے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ڈینگی بخار کے پہلے تین سے پانچ دنوں کے دوران مریض کی سخت نگرانی کی جائے۔ مریض کے پیشاب، نیند، دورے پڑنے یا جسم میں ہونے والی کسی بھی دوسری تبدیلی پر نظر رکھنی ہوگی۔ مریض کے اہل خانہ کو بھی اس سلسلے میں آگاہ کرنا ہوگا۔
اگر مریض کو پیٹ میں درد، بار بار الٹی، شدید کمزوری، دورے پڑنا، بے ہوش ہوجانا یا جسم کے کسی بھی حصے سے خون بہنے جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر صحت مرکز سے رابطہ کرنا ہوگا۔محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ ڈینگی کا اصل خطرہ کئی مرتبہ بخار کم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس لیے بخار اتر جانے کے باوجود مریض کو نگرانی میں رکھنا ضروری ہے۔
ڈینگی کے ٹیسٹ کے حوالے سے بھی محکمہ صحت نے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ بخار کے پہلے پانچ دنوں کے اندر ڈینگی کی تشخیص کے لیے NS1 اینٹی جن ELISA ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ پانچ دن گزرنے کے بعد IgM ٹیسٹ کرنا ہوگا۔ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر بخار 10 دن سے زیادہ برقرار رہے تو صرف ڈینگی ہی نہیں بلکہ لیپٹوسپائروسس یا اسکرب ٹائفس جیسے دیگر انفیکشن کے امکان کی بھی جانچ کی جائے۔ اسپتال میں داخل مریضوں کے معاملے میں اسپتال سے ہونے والے انفیکشن کے امکان کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ماہرین نے پلیٹ لیٹس کے حوالے سے بھی غیر ضروری طور پر خوفزدہ نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے۔


