اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا: یاشر پارٹی کی رہنما

اسرائیلی عوام نے نیتن یاہو کو مسترد کر دیا: یاشر پارٹی کی رہنما

سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ کی جماعت ’یاشر‘ کی رہنما اوریت فرکاش ہاکوہن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عوام نے انتخابات میں واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مزید بنیامین نیتن یاہو کی قیادت نہیں چاہتے۔

ان کے مطابق نیتن یاہو کے اتحادی بلاک کو تقریباً 20 نشستوں کا نقصان ہوا ہے اور اب اس کے پاس پارلیمان میں اکثریت نہیں رہی، جس کے باعث وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

اوریت فرکاش ہاکوہن نے کہا کہ ووٹرز نے مختلف ترجیحات اور ایک نئی طرز کی قیادت کے حق میں فیصلہ دے کر تبدیلی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لیپڈ نے انتخابات کے نتائج پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اسرائیل کی ریاست نے آج خود کو بچا لیا‘ اور وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی حکومت کو ’واضح شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یائر لیپڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کے عوام جیت گئے ہیں۔ ہم اکثریت میں ہیں۔ جمہوری نظام میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی جماعت کو حکومت بنانے کا حق حاصل ہوتا ہے، اور اس پر ایسا کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔‘

انھوں نے زور دیا کہ اب ترجیح ایک نئی ’صیہونی حکومت‘ کی تشکیل ہونی چاہیے، چاہے وہ ابتدا میں مکمل یا وسیع اتحاد پر مشتمل نہ ہو۔ ان کے بقول بعد میں اس حکومت کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جا سکتا ہے۔

Back to top button
Translate »