دہلی کے تاجروں نے راہل گاندھی سے ملاقات کا وقت مانگا

دہلی کے تاجروں نے راہل گاندھی سے ملاقات کا وقت مانگا

چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے کانگریس رہنما راہل گاندھی سے 20 منٹ کی ملاقات کا وقت مانگا ہے، تاکہ انہیں بتایا جا سکے کہ دیوالی سے قبل تہواروں کے موسم میں رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو ہونے والی انڈیا اتحاد کی ریلی سے دہلی کی 20 مارکیٹوں کا کاروبار کس طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
بدھ کے روز راہل گاندھی کو لکھے گئے خط میں سی ٹی آئی کے چیئرمین برجیش گوئل نے ان سے اپیل کی کہ ریلی کو دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دیا جائے۔ اس ریلی میں 10 لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ریلی کے مقام سے ایک سے پانچ کلومیٹر کے دائرے میں واقع مارکیٹوں کا کاروبار متاثر ہو سکتا ہے۔
سی ٹی آئی نے چار دنوں کے اندر راہل گاندھی کو دوسرا خط لکھ کر ریلی ملتوی کرنے کی اپیل کی ہے۔ 24 اکتوبر کو لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو لکھے گئے پہلے خط میں چیمبر نے کہا تھا کہ ریلی ملتوی کرنے سے سال کے مصروف ترین ادوار میں سے ایک کے دوران کاروباری سرگرمیوں کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔
بدھ کے خط میں برجیش گوئل نے کہا، ”ہم لڑائی نہیں چاہتے، ہم بات چیت چاہتے ہیں۔ راہل جی خود کہتے ہیں کہ وہ سب کی بات سنتے ہیں اور چھوٹے تاجروں کی آواز بھی سنتے ہیں۔ اسی لیے 20 مارکیٹوں کے ہم تاجر ان سے صرف 20 منٹ مانگ رہے ہیں۔ یہی جمہوریت کی خوب صورتی ہوگی۔“
سی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ اگر راہل گاندھی تاجروں کو قائل کر دیں کہ ریلی سے کاروبار کو فائدہ ہوگا اور زیادہ گاہک آئیں گے تو تاجر اپنا احتجاج واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، اگر تاجر انہیں یہ سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں کہ اس پروگرام سے کاروبار کو نقصان پہنچے گا تو راہل گاندھی کو ریلی دیوالی کے بعد تک ملتوی کر دینی چاہیے۔
سی ٹی آئی نے جن مارکیٹوں کی نشاندہی کی ہے، ان میں چاندنی چوک، بھاگیرتھ پیلس، کھاری باولی، صدر بازار، چاوڑی بازار، کشمیری گیٹ، نبی کریم، کرول باغ، اجمیر گیٹ اور دریا گنج سمیت دیگر بازار شامل ہیں۔دیگر متاثر ہونے والی مارکیٹوں میں نئی سڑک، کناری بازار، دریبہ کلاں، فتح پوری، نیا بازار، فلمستان، پہاڑ گنج، گفّار مارکیٹ، جامع مسجد-مینا بازار اور لالہ لَجپت رائے مارکیٹ شامل ہیں۔
انڈیا اتحاد کی اس ریلی کا مقصد ”ووٹ چوری“ کے معاملے پر حکومت پر دباو¿ بڑھانا اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنا ہے۔
12 اکتوبر کو ”ووٹ چوری“ کے خلاف احتجاج سپریم کورٹ کے دروازے تک پہنچ گیا تھا۔ اس دوران راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنماو¿ں، کارکنوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے دہلی میں سخت حفاظتی رکاوٹوں والے راستے پر ”جمہوریت کے لیے مارچ“ میں حصہ لیا تھا۔ مظاہرین نے ایس آئی آر کے خلاف مشترکہ عرضی بھی دائر کی تھی۔
13 اکتوبر کو راہل گاندھی نے اپنی رہائش گاہ پر انڈیا اتحاد کے رہنماو¿ں کو چائے پر مدعو کیا تھا۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن اتحاد نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنی مزاحمت جاری رکھے گا اور اس لڑائی کو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گا۔

Back to top button
Translate »