نصیرالدین شاہ نے جامعہ کے طلبہ کی حمایت کی، خود کو ’فخریہ طور پر دماغی نکسل‘ قرار دیا

 نصیرالدین شاہ نے جامعہ کے طلبہ کی حمایت کی، خود کو ’فخریہ طور پر دماغی نکسل‘ قرار دیا

معروف اداکار نصیرالدین شاہ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کی حمایت کی ہے، جو طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے پر احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود کو فخریہ طور پر ’دماغی نکسل‘ قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تعلیمی نظام سے متعلق مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔
منگل کے روز فیس بک پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں 76 سالہ اداکار نے مودی حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے اور ملک کے نوجوانوں کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔شاہ نے ’دماغی نکسل‘ کا ایک بیج (پن) لگا رکھا تھا، جسے انہوں نے کیمرے کے سامنے بھی دکھایا۔شاہ نے ہندی میں کہا، ”میں فخر کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ میں ’دماغی نکسل‘ ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان جیسے لوگوں کو چوکیداروں نے اور کیا کیا نام دیے ہیں، جیسے ملک دشمن، ’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ اور نہ جانے کیا کیا۔“
انہوں نے مزید کہا، ”میں اس حکومت سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ ہمارے ملک کے نوجوانوں کے حوصلے توڑنے، تعلیمی نظام کو تباہ کرنے اور ہماری جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے آپ اور کیا کریں گے؟ آپ کس حد تک جائیں گے؟“اس سے قبل نصیرالدین شاہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویڑن انسٹی ٹیوٹ (ایس آر ایف ٹی آئی) کے طلبہ کی حمایت بھی کر چکے ہیں، جو کیمپس میں تشدد کے واقعات کے خلاف غیر معینہ مدت سے دھرنا دے رہے ہیں۔
مختلف تعلیمی اداروں میں ہونے والے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ نے کہا، ”پہلے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، پھر ستیہ جیت رے فلم انسٹی ٹیوٹ اور اب جامعہ ملیہ۔ طلبہ کے ساتھ جو زیادتیاں کی جا رہی ہیں، انہیں یاد رکھا جائے گا۔ سب کچھ یاد رکھا جائے گا۔“ اس موقع پر انہوں نے شاعر عامر عزیز کے اشعار کا حوالہ بھی دیا۔
انہوں نے بسمل عظیم آبادی کی نظم ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘ کا مصرعہ بھی پڑھا: ’دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے۔‘احتجاج کرنے والے جامعہ کے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے ایک حتمی تاریخ کا اعلان کرے۔ سال 2006 کے بعد سے یہاں طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ نے یونین کے آئین کی منظوری کے لیے واضح ٹائم لائن دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔شاہ کے بیان پر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے ردعمل ظاہر کیا۔ بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے اداکار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
رجیجو نے لکھا، ”میں سمجھتا تھا کہ نصیرالدین شاہ صرف ایک عام اداکار ہیں۔ میں ان کی عزت کرتا تھا اور انہیں پسند بھی کرتا تھا، لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ایک خطرناک شہری ’دماغی نکسل‘ ہیں۔“
رجیجو نے کہا کہ انہیں شاہ کے ’اصل کردار‘ کا علم دیر سے ہوا اور ان کے خیالات کو ہندوستانی جمہوریت کے لیے ’انتہائی نقصان دہ‘ قرار دیا۔
واضح رہے کہ ’دماغی نکسل‘ کی اصطلاح سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی نے یوم آزادی کی تقریر میں استعمال کی تھی۔ مودی نے ’دماغی نکسل‘ کہلانے والے افراد کو ایسے لوگوں کے طور پر بیان کیا تھا، جن کے بارے میں ان کا الزام تھا کہ وہ نظام کے اندر مضبوطی سے اپنی جگہ بنا چکے ہیں اور پالیسیوں میں ہیرا پھیری کرکے معاشرے کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
Back to top button
Translate »