بھوج شالہ–کمال مولا مسجد میں بسنت پنچمی پر پوجا اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

بھوج شالہ–کمال مولا مسجد میں بسنت پنچمی پر پوجا اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع متنازعہ بھوج شالہ–کمال مولا مسجد کمپلیکس میں بسنت پنچمی کے موقع پر مذہبی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے حکم کے مطابق جمعہ کے دن ہندو برادری کو طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک پوجا کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ مسلم برادری دوپہر ایک بجے سے تین بجے تک جمعہ کی نماز ادا کر سکے گی۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے ہدایت دی کہ جمعہ کی نماز کے لیے آنے والے مسلمانوں کی فہرست ضلعی انتظامیہ کو فراہم کی جائے۔ عدالت نے دونوں فریقوں سے باہمی احترام کا مظاہرہ کرنے اور ریاستی و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کی اپیل بھی کی، تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب ہندو اور مسلم تنظیموں نے 23 جنوری (جمعہ) کو بھوج شالہ کمپلیکس میں مذہبی سرگرمیوں کی اجازت طلب کی، کیونکہ اسی دن بسنت پنچمی کے موقع پر سرسوتی پوجا بھی منعقد ہوگی۔ سپریم کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ عبادات کے دوران مقام پر مکمل سیکورٹی اور امن و امان کے انتظامات کیے جائیں۔
بھوج شالہ ایک آثارِ قدیمہ کے محکمہ (اے ایس آئی) کے تحت محفوظ 11ویں صدی کی یادگار ہے، جسے ہندو دیوی واگدیوی (سرسوتی) کا مندر مانتے ہیں، جبکہ مسلم برادری اسے کمال مولا مسجد قرار دیتی ہے۔ اے ایس آئی کی جانب سے 7 اپریل 2003 کئے گئے ایک فیصلہ کے مطابق ہندو ہر منگل کو یہاں پوجا کرتے ہیں اور مسلمان جمعہ کے روز نماز ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدھیہ پردیش کے دھار میں کمال مولا مسجد کمپلیکس میں سروے ختم – ASI
انتظامیہ نے شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے تقریباً 8,500 پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ضلع کلکٹر پریانک مشرا نے کہا کہ دونوں برادریوں کی عبادات کے پیش نظر تمام ضروری انتظامات کر لیے گئے ہیں۔ ایگزیکٹو مجسٹریٹس مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں، پولیس مسلسل گشت اور فلیگ مارچ کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

Back to top button
Translate »