مدرسہ تعلیم کے بجٹ کی رقم کیا دراندازوںکو بچانے کےلئے خرچ ہورہی ہے؟ اگنی پال مترا

مدرسہ تعلیم کے بجٹ کی رقم کیا دراندازوںکو بچانے کےلئے خرچ ہورہی ہے؟ اگنی پال مترا


کولکتہ: اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں ایک بے مثال تلخ کلامی دیکھنے کو ملی۔ بی جے پی ایم ایل اے اگنی مترا پال اور ترنمول ایم ایل اے فرہاد حکیم کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ بجٹ میں اقلیتی برادری کی ترقی کے لیے مختص رقم میں اضافے پر بات کرتے ہوئے اگنی مترا نے دراندازی اور مجرمانہ مسائل کو اٹھا کر حکمران جماعت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ "یہ حکومت اقلیتوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما رہی ہے۔” ان کے اس تبصرے پر اسمبلی میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔ فرہاد حکیم نے اگنی مترا کے ریمارکس کی سخت مذمت کی۔جمعہ کو بجٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اگنی مترا نے کہا، "اس حکومت نے مدرسہ تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔ مدرسہ میں پڑھنے کے بعد کوئی ڈاکٹر یا انجینئر کیوں نہیں بن رہا؟ کچھ لوگ مجرم بننے کی طرف کیوں بڑھ رہے ہیں؟” انہوں نے مزید کہا، "اقلیتی ترقی اور مدرسہ تعلیم کے بجٹ میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ واقعی تعلیم کے لیے ہے یا دراندازوں کو بچانے کے لیے؟فرہاد حکیم اگنی مترا کے ریمارکس پر احتجاج کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ انہوں نے کہا، "تحریک آزادی میں بہت سے اقلیتی لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ہم مجرم نہیں ہیں۔ کیا اے پی جے عبدالکلام مجرم تھے؟ کیا قاضی نذرالاسلام مجرم تھے؟ آپ پر دھتکار ہے۔ آپ کو معافی مانگنی چاہیے۔ آپ پر ملامت ہے، کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟اسمبلی میں شدید ہنگامہ برپا ہوگیا۔ اسپیکر بمان بنرجی نے اگنی مترا سے کہا، "ایسا کوئی لفظ استعمال نہ کریں جس سے دوسروں کو ٹھیس پہنچے۔” دوبارہ بات کرتے ہوئے اگنی مترا نے کہا، "تحریک آزادی میں اقلیتی برادری کے تعاون پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن یہ حکومت اقلیتوں کو مجرم بنا رہی ہے۔ یہ حکومت اقلیتوں کے ہاتھوں میں بندوق دے رہی ہے۔

Back to top button
Translate »