ٹریفلگر اسکوائر میں افطار پرہنگامہ کیوں؟

ٹریفلگر اسکوائر میں افطار پرہنگامہ کیوں؟

ہنگامہ ہے کیوں برپا؟ لندن کے معروف تاریخی مقام ٹریفلگر اسکوائر پر نہ کوئی بدامنی ہوئی، نہ شراب نوشی کا کوئی ہنگامہ برپا ہوا۔بلکہ معاملہ صرف اتنا تھا کہ رمضان کے موقع پر افطار کے ایک پُرامن اجتماع میں  لندن کے میئر صادق خان کی موجودگی میں نماز ادا کی گئی۔ مگر یہی منظر ایک قومی بحث کا مرکز بن گیا۔

History سوال یہ ہے کہ جب یہی جگہ دیگر مذاہب اور ثقافتی تقریبات کے لیے کھلی ہے، تو پھر ایک سادہ مذہبی عبادت اچانک تنازع کیوں بن جاتی ہے؟ یہ ردِعمل اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ کسی واقعے میں نہیں بلکہ ان رویوں میں ہے جو ایک مخصوص شناخت کو قبول کرنے میں اب بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، اور ایک پُرامن عمل کو بھی خوف اور اختلاف کا رنگ دے دیتے ہیں۔برطانیہ میں حالیہ دنوں ایک اہم بحث نے جنم لیا جب ریفارم پارٹی کے لیڈر نائجل فراج نے عوامی مقامات پر مسلمانوں کی اجتماعی نماز پر قدغن لگانے کا عندیہ دیا۔ یہ بیان اس پس منظر میں سامنے آیا جب لندن کے مرکزی مقام ٹریفلگر اسکوائر میں رمضان کے دوران ایک پرامن مذہبی اجتماع منعقد ہوا، جسے رمضان ٹینٹ پروجیکٹ نے ترتیب دیا تھا اور جس میں صادق خان سمیت مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس واقعے کو، جو ماضی میں بھی بغیر کسی تنازع کے کئی بار منعقد ہو چکا ہے، اچانک "خطرے "کے طور پر پیش کرنا بذاتِ خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔یہ کالم اس بیان اور اس جیسے بیانیوں کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی عوامی عبادات کیوں بعض حلقوں میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔کنزرویٹیو پارٹی کی لیڈر کیمی بیڈینوک کی جانب سے یہ سوال اٹھانا کہ آیا ایسے واقعات”برطانوی ثقافت کے مطابق”ہیں، دراصل ایک وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتا ہے جس میں مذہبی آزادی کو ثقافتی ہم آہنگی کے مقابل لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ "برطانوی ثقافت”کی تعریف کون کرے گا؟ کیا یہ ایک جامد تصور ہے یا ایک متحرک حقیقت جو وقت کے ساتھ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کو اپنے اندر سمو لیتی ہے؟اگر کرسمس کی تقریبات، دیوالی کی روشنیوں یا ہنوکا کی تقاریب کو عوامی سطح پر منانا قابلِ قبول ہے تو مسلمانوں کی نماز کو "اشتعال انگیز مظاہرہ”  قرار دینا واضح طور پر دہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔ اسی تضاد کی نشاندہی اسکاٹش لیڈر حمزہ یوسف نے بھی کی، جنہوں نے اسے کھلا تعصب قرار دیا۔ریفارم پارٹی کے لیڈر فراج کا یہ کہنا کہ اجتماعی نماز”ہمارے طرزِ زندگی کو ” پیچھے چھوڑنے کی کوشش ہے، دراصل ایک ایسے بیانیے کا حصہ ہے جو”ہم”اور”وہ”کی تقسیم کو گہرا کرتا ہے۔ اس بیانیے میں مذہبی عمل کو ایک سماجی خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ محض ایک عبادت ہے۔یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ خوف اکثر حقیقت سے زیادہ تصوراتی ہوتا ہے۔ مسلمانوں کی پہچان کو بعض افراد اپنی شناخت کے لیے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ یہ محض ایک کثیرالثقافتی معاشرے کی فطری جھلک ہے۔یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ مذہبی سرگرمیاں نجی دائرے تک محدود رہنی چاہئیں۔ بظاہر یہ ایک غیرجانبدار مؤقف لگتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ اکثر صرف مسلمانوں پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر اصول واقعی یکساں ہوتا، تو تمام مذاہب کی عوامی تقریبات پر یکساں پابندیاں ہوتیں۔لہٰذا مسئلہ عوامی مقامات کے استعمال کا کم اور مخصوص مذہبی شناخت کا زیادہ معلوم ہوتا ہے۔

 

Social Sciencesاگر اس رجحان کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں مذہبی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔مثلاً ہندوستان کے گڑگاؤں میں متعدد بار ایسا ہوا کہ مسلمانوں کو کھلے میدانوں میں جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روکا گیا۔ بعض مواقع پر انتہا پسند گروہوں نے جان بوجھ کر ان مقامات پر احتجاج کیا یا خلل ڈالا۔ یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب ریاست یا معاشرہ ایک خاص مذہبی گروہ کی عبادات کو نشانہ بنانا شروع کر دے  تو یہ رویہ بتدریج معمول بن سکتا ہے۔یہی وہ مرحلہ ہے جہاں تنقیدی سوچ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، کیونکہ خاموشی یا غیر سنجیدگی مستقبل میں مزید تقسیم کا سبب بن سکتی ہے۔ تنقیدی جائزے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ مسلمانوں کی نماز نہیں بلکہ اس کے گرد تشکیل دیا گیا بیانیہ ہے۔ جب ایک پرامن مذہبی عمل کو”غلبے یا خطرے” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو یہ نہ صرف حقیقت کو مسخ کرتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔کثیرالثقافتی معاشروں کی اصل طاقت ان کی تنوع میں پوشیدہ ہوتی ہے نہ کہ یکسانیت میں۔ اگر کسی ایک گروہ کی مذہبی آزادی کو محدود کیا جائے تو یہ دراصل پورے معاشرے کے اصولوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خوف پر مبنی بیانیے کے بجائے حقائق، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک منصفانہ اور پُرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔اگر ٹریفلگر اسکوائر میں کرسمس کی خوشیاں منانا، دیوالی کی روشنیاں سجانا اور ہنوکا کی تقریبات منعقد کرنا برطانوی ثقافت کا حسن سمجھا جاتا ہے  تو پھر وہی جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے اچانک”مسئلہ”کیوں بن جاتی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جو اس پوری بحث کی اصل روح کو بے نقاب کرتا ہے۔مسئلہ درحقیقت جگہ کا نہیں، اصول کا بھی نہیں۔مسئلہ انتخاب کا ہے۔ کون سی مذہبی شناخت قابلِ قبول ہے اور کون سی نہیں؟ جب ایک ہی مقام، ایک ہی شہر اور ایک ہی قانون کے تحت مختلف مذاہب کو مختلف پیمانوں پر پرکھا جائے تو یہ محض اختلاف نہیں رہتا بلکہ تعصب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی نماز کو اکثر”نمائش، غلبے یا اشتعال”کے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی عمل جب دوسرے مذاہب کرتے ہیں تو اسے”ثقافتی تنوع اورکمیونٹی سپرٹ”کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ہی عمل کا مفہوم مذہب بدلتے ہی کیوں بدل جاتا ہے؟یہ رویہ اس گہری نفسیاتی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ایک مخصوص کمیونٹی کی موجودگی کو معمول کے بجائے”خطرہ”سمجھا جاتا ہے۔ گویا مسئلہ نماز نہیں، نمازی ہیں۔ عبادت نہیں، عبادت کرنے والوں کی شناخت ہے۔جب لندن کے مئیر صادق خان جیسے منتخب نمائندے ایک بین المذاہب اور پرامن تقریب میں شریک ہوتے ہیں، تو اسے بھی بعض حلقے ایک ’پیغام یا ایجنڈا‘کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ کیا یہی تاثر کسی اور مذہبی تقریب میں شرکت پر بھی دیا جاتا؟ اگر نہیں  تو پھر یہ فرق خود بہت کچھ بیان کر دیتا ہے۔یہ کہنا آسان ہے کہ یہ صرف”ثقافتی تحفظ”کا معاملہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ثقافت کوئی بند دروازہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقا کا عمل ہے۔ برطانیہ جیسے معاشرے کی اصل طاقت ہی اس کی کثیرالثقافتی شناخت ہے۔ اگر اسی تنوع کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے  تو پھر مسئلہ تنوع میں نہیں بلکہ اسے قبول کرنے کی صلاحیت میں ہے۔اصل سوال یہ نہیں کہ ٹرافلگر اسکوائر میں نماز کیوں پڑھی گئی۔اصل سوال یہ ہے کہ اسے مسئلہ کیوں بنایا گیا؟جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں دیا جاتا،  تب تک”آزادی، برابری اوربرداشت”جیسے الفاظ محض خوبصورت نعرے ہی رہیں گے، حقیقت نہیں۔

Back to top button
Translate »