ایم پی شوکھندو شیکھر رائے کیا بی جے پی میں جانا چاہتے ہیں

ایم پی شوکھندو شیکھر رائے کیا بی جے پی میں جانا چاہتے ہیں

عوا عوام کے فیصلے سے بنگال میں اب تبدیلی کی آندھی چل رہی ہے۔ گھاس پھول (ترنمول کا انتخابی نشان) تاش کے پتوں کی طرح اڑ گیا ہے۔ میدانِ سیاست سے لے کر تمام لیڈران اور وزراء اپنے گھروں میں دبک گئے ہیں۔ بدعنوانی کے الزامات میں نچلی سطح کے رہنماو¿ں کی گرفتاریوں کا سلسلہ کسی وبا کی طرح بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ پارٹی کے اندر ناراضگی کی آگ تیز ہو رہی ہے۔ سپریمو (ممتا بنرجی) گھر کو سنبھالنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود راکھ تلے دبی آگ چنگاری بن کر باہر نکل رہی ہے! ایسی ہی ایک نئی بحث ترنمول کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمان سکھیندو شیکھر رائے کی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی گئی ایک معنی خیز پوسٹ سے شروع ہو گئی ہے۔
ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا رکنِ پارلیمان سکھیندو شیکھر رائے نے ایکس پر رومن شہنشاہ کی مثال دیتے ہوئے لکھا، ’44 قبلِ مسیح میں مارچ کے ’آئیڈز‘ (Ides) کے دن رومن شہنشاہ جولیئس سیزر کو سینیٹ کے اندر ہی خنجر مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ رومن کیلنڈر کے مطابق ’آئیڈز‘ سے مراد عام طور پر مارچ، مئی، جولائی اور اکتوبر کے مہینوں کی 15 تاریخ ہوتی تھی۔ لیکن اس سال مئی کے ’آئیڈز‘ آنے سے پہلے ہی مغربی بنگال کے عوام نے ناقابلِ برداشت لاقانونیت کی صورتحال کا خاتمہ کر دیا ہے۔‘
سکھیندو شیکھر کی اس پوسٹ سے یہ بات واضح ہے کہ کیا انہوں نے بالواسطہ طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ بنگال میں لاقانونیت کی صورتحال تھی؟ ان کی پوسٹ میں لکھا ہے کہ مئی کی 15 تاریخ سے پہلے ہی بنگال کے عوام نے ’لاقانونیت کی صورتحال کا خاتمہ‘ کر دیا ہے۔ تو کیا رکنِ پارلیمان نے ترنمول کانگریس سے دوری اختیار کرنے کے لیے ہی ایسی معنی خیز پوسٹ کی ہے؟ جس کو لے کر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ انتخابی معرکے میں عبرتناک شکست کے بعد سے ہی کئی رہنماو¿ں نے پارٹی کے خلاف زبان کھولنا شروع کر دی ہے۔ بنیادی طور پر کئی لوگوں نے ترنمول کانگریس کے ’سیکنڈ ان کمانڈ‘ ابھیشیک بنرجی کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ پارٹی سے باہر زبان کھولنے پر انہیں سپریمو کے غصے کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، یہاں تک کہ بعض کو پارٹی سے معطل بھی کیا گیا ہے۔ اب رکنِ پارلیمان کی اس باغیانہ پوسٹ نے ترنمول کانگریس کو شدید تذبذب اور مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

Back to top button
Translate »