ایس آئی آر کے نام پر نندی گرام میں پچانوے فیصد مسلمانوں کے نام کاٹ دیئے گئے
ایس آئی آر کے نام پر نندی گرام میں پچانوے فیصد مسلمانوں کے نام کاٹ دیئے گئے
نندی گرام میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی (SIR) کے دوران ‘زیرِ غور’ (Under Consideration) فہرست سے 95.5 فیصد مسلمانوں کے نام خارج ہونے پر نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس پر ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر سازش کا الزام لگایا ہے۔ نندی گرام کی مجموعی آبادی میں مسلمان محض 25 فیصد ہیں، اس کے باوجود سپلیمنٹری لسٹ میں خارج کیے گئے ووٹروں میں ان کی اتنی بڑی تعداد نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔اس وقت کل 10,604 نام خارج کیے گئے تھے، جن میں 66.7 فیصد غیر مسلم اور 33.3 فیصد مسلم ووٹرز شامل تھے۔
حالیہ سپلیمنٹری فہرست: اس نئی فہرست میں کل 2,826 نام خارج کیے گئے ہیں، جن میں سے 2,700 نام مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ مجموعی تعداد کا 95.5 فیصد بنتا ہے۔
غیر مسلم ووٹرز: اس فہرست میں غیر مسلموں کے نام خارج ہونے کی تعداد صرف 126 ہے، جو کہ محض 4.5 فیصد ہے۔جنس کی بنیاد پر تقسیم: خارج کیے گئے ناموں میں 51.1 فیصد مرد اور 48.9 فیصد خواتین شامل ہیں۔ضلعی انتظامیہ اور سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث چھڑ گئی ہے کہ محض چند مہینوں کے وقفے میں نام نکالنے کے تناسب میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی اور کیوں خاص طور پر ایک مخصوص کمیونٹی کو ہی اس عمل کا نشانہ بننا پڑا۔ ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ یہ بی جے پی کے اشارے پر کیا گیا ہے تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

