دہلی ہائی کورٹ کی جی ایس ٹی کونسل کو فوری میٹنگ اور ایئر پیوریفائرز پر ٹیکس کم کرنے پر غور کرنے کی ہدایت

دہلی ہائی کورٹ کی جی ایس ٹی کونسل کو فوری میٹنگ اور ایئر پیوریفائرز پر ٹیکس کم کرنے پر غور کرنے کی ہدایت

نئی دہلی24دسمبر: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کے روز ایئر ایمرجنسی کے دوران ایئر پیوریفائرز پر 18 فیصد جی ایس ٹی برقرار رکھنے پر مرکزی حکومت کو سخت آڑے ہاتھوں لیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ جب حکام شہریوں کو صاف ہوا فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، تو وہ کم از کم ان آلات پر ٹیکس کیوں کم نہیں کر سکتے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
چیف جسٹس دیویندر کمار اپادھیائے اور جسٹس تشار راو¿ گڈیلا پر مشتمل بنچ نے ریمارکس دیے کہ "ہم دن میں 21,000 مرتبہ سانس لیتے ہیں، اس سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگائیں۔”
عدالت ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کر رہی تھی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائرز کو ‘میڈیکل ڈیوائسز’ کے زمرے میں شامل کیا جائے، جس سے ان پر جی ایس ٹی کی شرح کم ہو کر 5 فیصد ہو جائے گی۔عدالت نے مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو دن کے اندر جواب طلب کر لیا ہے اور معاملے کی اگلی سماعت 26 دسمبر کے لیے مقرر کی ہے۔جب حکومت نے جواب دینے کے لیے مزید وقت مانگا، تو بنچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا”مناسب وقت سے کیا مراد ہے؟ کیا جب ہزاروں لوگ مر جائیں گے؟ اس شہر کے ہر شہری کو صاف ہوا کی ضرورت ہے اور آپ وہ فراہم نہیں کر سکے۔ کم از کم آپ اتنا تو کر سکتے ہیں کہ انہیں ایئر پیوریفائرز تک رسائی (سستی قیمت پر) فراہم کریں۔

عدالت نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ مرکز کو اس معاملے پر اپنا موقف رکھنے کے لیے 15 دن کیوں درکار ہیں، جبکہ یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے۔

Back to top button
Translate »