20 لاکھ روپے سے کم کے ہاو¿سنگ لون (ہوم لون) کی وصولی کے لیے قرض لینے والے کی زمین یا مکان کو ضبط نہیں کیا جا سکتا

20 لاکھ روپے سے کم کے ہاو¿سنگ لون (ہوم لون) کی وصولی کے لیے قرض لینے والے کی زمین یا مکان کو ضبط نہیں کیا جا سکتا

کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس رتبریت کمار مترا نے ایک اہم فیصلے میں حکم دیا ہے کہ 20 لاکھ روپے سے کم کے ہاو¿سنگ لون (ہوم لون) کی وصولی کے لیے قرض لینے والے کی زمین یا مکان کو ضبط نہیں کیا جا سکتا۔جج نے واضح کیا کہ کم مالیت کے قرضوں کی وصولی کے لیے کوئی بھی سخت قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔اگر قرض دینے والا ادارہ رقم وصول کرنا چاہتا ہے، تو اسے (ضرورت پڑنے پر) عدالت سے رجوع کرنا ہوگا، وہ براہِ راست جائیداد پر قبضہ نہیں کر سکتا۔
یہ معاملہ سال 2023 کا ہے۔ ستمبر 2023 میں غلام صابر نامی شخص نے ایک ہاو¿سنگ فنانس کمپنی (HFC) سے 13 لاکھ روپے کا ہوم لون لیا تھا۔غلام صابر نے ابتدائی چند ماہ تک اقساط (EMIs) وقت پر ادا کیں، لیکن گزشتہ چند مہینوں سے مالی مسائل کی وجہ سے وہ ادائیگی نہیں کر پا رہے تھے۔قرض فراہم کرنے والے ادارے نے رقم کی واپسی کے لیے سرفیسی ایکٹ (SARFAESI Act) کا سہارا لیا۔اس قانون کے تحت، اگر کوئی شخص ہوم لون ادا کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو قرض دینے والا ادارہ عدالت کی اجازت کے بغیر اس کا گھر، زمین یا فلیٹ ضبط کر کے فروخت کر سکتا ہے۔
ہائی کورٹ کے اس حکم نے سرفیسی ایکٹ کے تحت ملنے والے اس اختیار کو 20 لاکھ سے کم کے قرضوں کے لیے محدود کر دیا ہے، جس سے چھوٹے قرض لینے والوں کو بڑی راحت ملی ہے۔
Back to top button
Translate »