مردم شماری کے خود اندراج میں 33سوالوں کے جواب دینے ہوں گے؟
مردم شماری کے خود اندراج میں 33سوالوں کے جواب دینے ہوں گے؟
پہلی بار ریاست بھر میں آن لائن مردم شماری (Census 2027) کا آغاز ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کو نبانّہ میں بیٹھ کر وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے خود اندراج کا فارم پ±ر کیا۔ https://se.census.gov.in ویب سائٹ پر جا کر ایک کلک میں فارم پ±ر کیا جا سکتا ہے۔ ۳۳ سوالوں کے جواب دینے ہوں گے۔ جان لیں کہ اس فارم میں بالکل کون سی معلومات دینی ہوں گی۔
خاندان کا سربراہ کون ہے، وہ خاتون ہے یا مرد، خاندان کا تعلق شیڈولڈ ذات یا شیڈولڈ قبیلہ سے ہے یا کسی اور برادری سے، افراد شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ۔ ممکنہ ۳۳ سوالوں میں گھر سے متعلق تمام معلومات شامل ہیں۔ گھر کا مالک کون ہے، کتنے کمرے ہیں، فرش اور چھت کیسی ہے، بجلی کا کنکشن ہے یا نہیں۔ پینے کا پانی، گندے پانی کے اخراج کا انتظام ہے یا نہیں۔ گھر میں ایل پی جی یا پی این جی کنکشن ہے یا نہیں۔ صرف یہی نہیں، گھر میں ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، ٹیلی فون، موبائل ہے یا نہیں، یہ بھی اس فارم میں پوچھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خاندان کے افراد کے پاس کتنی سائیکلیں، بائیک، اسکوٹر ہیں، اس کی بھی جانچ ہوگی۔ خاندان کو راشن کارڈ یا دیگر سماجی منصوبوں کا فائدہ ملتا ہے یا نہیں، یہ بھی فارم میں درج کرنا ہوگا۔ آنے والی ۱۵ اگست تک آن لائن اندراج فارم پ±ر کرنا ہوگا۔ ۱۶ اگست سے ایک ماہ تک گھر گھر جا کر اندراج فارم کی معلومات کی جانچ پڑتال کا کام ہوگا۔ گزشتہ ہفتہ کو وزیرِ اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے بتایا کہ اس طرح مردم شماری کرنے سے ریاستی حکومت کے پاس ہر شہری کا ڈیٹا بیس ہوگا۔ جس کے نتیجے میں مستقبل میں ضرورت کے مطابق ریاست کے باشندوں کو سماجی منصوبوں کے فوائد حاصل کرنے میں سہولت ہوگی۔ سماجی منصوبوں کا فائدہ حاصل کرنے کے لیے کسی کو گھنٹوں قطار میں نہیں لگنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ریاستی حکومت کا مقصد ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی تارکِ وطن ریاست کے کسی بھی منصوبے کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔

