
اب ہندوستانی ہلسا پوجا سے قبل بنگلہ دیش پہنچے گا
اب ہندوستانی ہلسا پوجا سے قبل بنگلہ دیش پہنچے گا

ہندوستان، جو روایتی طور پر بنگلہ دیش کی مشہور پدما ہلسا مچھلی کی سب سے بڑی بیرونِ ملک منڈی رہا ہے، اب اپنی گھریلو طلب پوری کرنے کے لیے اسی مچھلی کو اپنے پڑوسی ملک بنگلہ دیش برآمد کرنے والا ملک بن گیا ہے۔اس غیر معمولی صورتحال کے تحت ہندوستانی تاجروں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران شمالی 24 پرگنہ ضلع کے پیٹراپول لینڈ پورٹ کے ذریعے کم از کم 450 ٹن ہلسہ بنگلہ دیش بھیجی ہے۔
زیادہ تر کھیپیں بنگال کے ڈائمنڈ ہاربر اور کولاغاٹ سے روانہ ہوئیں، جبکہ کچھ مچھلی گجرات اور ممبئی سے بھی بھیجی گئی۔ اتوار کو بھی تقریباً 10 ٹن ہلسہ سے لدی دو کھیپیں پیٹراپول لینڈ پورٹ کے ذریعے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش پہنچیں۔یہ صورتحال خاص طور پر حیران کن ہے کیونکہ بنگلہ دیش دنیا میں ہلسہ کی سب سے زیادہ پیداوار کرنے والا ملک ہے اور روایتی طور پر درگا پوجا کے موسم میں خیرسگالی کے طور پر بڑی مقدار میں ہلسہ ہندوستان برآمد کرتا رہا ہے۔
ہندوستان سے ہلسہ کی برآمد ایسے قت میں ہوئی ہے جب درگا پوجا سے قبل بنگلہ دیش کی جانب سے ہندوستان کو ہلسہ برآمد کرنے کی اجازت دینے کے معاملے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ کولکاتا کے مچھلی درآمد کنندگان نے ڈھاکہ سے ہلسہ کی برآمد دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ شہر کی ایک تجارتی تنظیم نے بنگلہ دیش کے وزیر تجارت سے بھی اس سلسلے میں درخواست کی ہے۔ بنگلہ دیشی مچھلی تاجروں کی جانب سے بھی اسی طرح کی درخواستیں کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، طارق رحمان کی حکومت نے ابھی تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
ہندوستان سے ہونے والی ہلسہ کی برآمدات تقریباً دو ماہ تک بظاہر پوشیدہ رکھی گئیں۔ اس خبر سے ان تاجروں میں بے چینی پیدا ہوگئی جو تہوار کے موسم میں بنگلہ دیشی ہلسہ درآمد کرنے پر بھی انحصار کرتے ہیں۔ کچھ برآمد کنندگان ابتدا میں اس تجارت کو تسلیم کرنے سے گریز کر رہے تھے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ اس خبر سے بنگلہ دیش میں ردعمل پیدا ہو سکتا ہے اور ہندوستان کو ہلسہ کی برآمد کے امکانات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔رابطہ کیے جانے پر کچھ برآمد کنندگان نے ابتدا میں دعویٰ کیا کہ ہلسہ کے برآمدی کوڈ کے تحت بھیجی گئی کھیپوں میں سمندری مچھلی شامل ہو سکتی ہے۔تاہم، پیٹراپول میں لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا کے ایک سینئر افسر اور کسٹمز کے ایک سینئر افسر نے ہفتے کو تصدیق کی کہ ہندوستان سے واقعی ہلسہ مچھلی بنگلہ دیش برآمد کی گئی ہے۔فش امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سکریٹری سید انور مقصود نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کی۔مقصود نے کہا، ”تاجر عام طور پر بنگال سے بنگلہ دیش بوآل، روئی، پارسے اور ٹینگرا جیسی مچھلی بھیجتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ وہاں ہلسہ کی کمی ہے۔ اسی لیے پہلی بار یہاں سے ہلسہ بنگلہ دیش بھیجی گئی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ چٹگاو¿ں اور سلہٹ میں انڈوں والی ہلسہ کی بہت زیادہ مانگ ہے اور گجرات میں ایسی مچھلی نسبتاً آسانی سے دستیاب ہے، جس کی وجہ سے بنگلہ دیشی مچھلی تاجروں نے مغربی ہندوستان کی اس ریاست سے کھیپیں حاصل کیں۔تاہم، کئی برآمد کنندگان نے بتایا کہ بنگال سے درمیانے سائز کی ہلسہ بھی بنگلہ دیش بھیجی گئی ہے۔مچھلی تاجروں کے مطابق اس غیر معمولی تجارت کی بنیادی وجہ سرحد کے دونوں جانب ہلسہ کی شدید قلت ہے۔ بے ترتیب ہواو¿ں اور خراب موسم نے مچھلی پکڑنے کے عمل کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں شکار کم ہوا اور ماہی گیروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔
بنگلہ دیش میں محدود رسد کے باعث ہلسہ کی قیمت عام صارفین کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ اس وقت ایک کلو یا اس سے زیادہ وزن والی پدما ہلسہ بنگلہ دیش میں 2,500 سے 3,000 ٹکا فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ایک برآمد کنندہ نے کہا، ”بنگلہ دیشی تاجروں نے بحیرہ? عرب اور نرمدا کے دہانے سے ملنے والی بہتر دکھائی دینے والی ہلسہ کو ترجیح دی ہے۔ یہ دیکھنے میں اچھی ہوتی ہے، لیکن میٹھے پانی کی ہلسہ جتنی ذائقے دار نہیں ہوتی۔ اس کی قیمت بھی پدما ہلسہ کے مقابلے میں کم ہے۔ لیکن اس موسم میں ہلسہ کی شدید قلت کے باعث کچھ بنگلہ دیشی تاجروں کو روایتی طریقہ چھوڑ کر ہندوستان سے ہلسہ درآمد کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔“
اس پیش رفت نے روایتی تہوار کے موسم میں ہونے والی ہلسہ تجارت کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ سال بنگلہ دیش نے ہندوستان کو 1,200 ٹن ہلسہ برآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن صرف 143.80 ٹن ہی ہندوستان پہنچ سکی۔ اس سے قبل مسلسل دو برسوں میں بھی درآمد کی مقدار 600 ٹن سے کم رہی، جس کی بڑی وجہ ہلسہ کی زیادہ قیمت تھی، جسے درآمد کنندگان قبول کرنے سے گریز کرتے تھے۔پیٹراپول کلیئرنگ ایجنٹس اسٹاف ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سکریٹری کارتک چکرورتی نے کہا، ”اگرچہ یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ اب ہندوستان بنگلہ دیش کو ہلسہ برآمد کر رہا ہے، لیکن میری خواہش ہے کہ ہلسہ ہمیشہ دونوں ملکوں کے درمیان خیرسگالی کی علامت بنی رہے۔


