امریکی افواج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر حملے کے بعد صدر مادورو کو گرفتار کر لیا: صدر ٹرمپ
امریکی افواج نے وینزویلا میں بڑے پیمانے پر حملے کے بعد صدر مادورو کو گرفتار کر لیا: صدر ٹرمپ

ٹرمپ کا موقف: صدر ٹرمپ نے اسے ایک "شاندار” اور "بہترین منصوبہ بندی” کا نتیجہ قرار دیا ہے، جو کئی ماہ سے جاری فوجی اور معاشی دباو¿ کا کلائمکس ہے۔
ابھی تک وینزویلا کی حکومت یا دیگر سرکاری ذرائع کی جانب سے امریکی صدر کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کو ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کارروائی کو ’انتہائی شاندار‘ قرار دیا۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ ’اس میں بھرپور منصوبہ بندی شامل تھی اور اس میں بہترین، نہایت بہترین فوجی اور قابل لوگ شریک تھے۔‘
صدر ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو اور وینزویلا کی تیل پر انحصار کرنے والی معیشت پر امریکہ کا فوجی اور معاشی دباو¿ کئی ماہ سے بتدریج بڑھتا چلا آ رہا تھا۔ امریکی صدر نے دسمبر میں کہا تھا کہ صدر مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’دانشمندی‘ ہو گی، جبکہ وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وینزویلا کے صدر کے ’دن گنے جا چکے ہیں۔‘
وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ہفتے کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صدر نکولس مادورو کی ’زندگی کا ثبوت‘ فراہم کرے، جن کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں امریکی افواج نے گرفتار کر لیا ہے۔ نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں وینزویلا کے سرکاری ٹیلی وڑن کو بتایا کہ امریکی حملوں کے بعد وہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کے ٹھکانے سے لاعلم ہیں۔
دوسری جانب وینزویلا کے وزیر دفاع ولادی میر پیدرینو لوپیز نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’دراندازی کرنے والی‘ امریکی افواج نے وینزویلا کی سرزمین کی بے حرمتی کی ہے اور یہاں تک کہ اپنے جنگی ہیلی کاپٹروں سے داغے گئے میزائلوں اور راکٹوں کے ذریعے شہری آبادی والے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک اپنی ’ہمہ گیر دفاعی حکمتِ عملی‘ کے تحت بری، فضائی، بحری، دریائی اور میزائل صلاحیتوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر تعیناتی کرے گا۔
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں ہفتے کی صبح تقریباً دو بجے (جی ایم ٹی کے مطابق صبح چھ بجے) زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی شامل تھیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اس کی تصدیق کی ہے۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں سنے گئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کا عندیہ دیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکہ نے بحیرہ کیریبین میں بحری ٹاسک فورس تعینات کر رکھی ہے۔ رات تقریباً دو بج کر 15 منٹ تک بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، تاہم ان کا درست مقام واضح نہیں ہو سکا۔

