3 گھنٹے تک پانی میں سفر کرکے متاثرین کھانا لینے جا رہے ہیں! سینے تک پانی میں راحت کے لیے بھٹنی میں چیخ و پکار

3 گھنٹے تک پانی میں سفر کرکے متاثرین کھانا لینے جا رہے ہیں! سینے تک پانی میں راحت کے لیے بھٹنی میں چیخ و پکار

کشتی نہیں ہے۔ بھوک کی شدت سے بھائی مسلسل روئے جا رہا تھا۔ اسی لیے راحت کا کھانا حاصل کرنے کے لیے تقریباً دس سالہ بچی ٹین کی ڈونگی میں تقریباً تین گھنٹے تک گنگا کے پانی میں تیرتی ہوئی سرکاری اہلکاروں کو تلاش کرتی رہی۔ جمعہ کے روز سیلاب زدہ بھٹنی کی یہ تصویر اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ دن گزرتے جانے کے ساتھ زندگی بچانے کی جدوجہد کتنی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ سینے تک پانی میں کھڑے ہوکر راحت کے لیے فریاد کرنا اب بھٹنی میں روزمرہ کا منظر بن گیا ہے۔ کشتی سے پھینکے جانے والے کھانے کو حاصل کرنے کے لیے پانی میں اتر کر آپس میں چھینا جھپٹی کے دل دہلا دینے والے مناظر کے لوگ اب کافی حد تک عادی ہو چکے ہیں۔
حالانکہ جمعہ کو بھی مانک چک بلاک انتظامیہ کی جانب سے کشتیوں کے ذریعے کافی مقدار میں راحت کا سامان پہنچایا گیا۔ لیکن اس کے باوجود راحت کے لیے ایسی چیخ و پکار کیوں ہے؟ دن بھر ڈونگی میں تیرتے ہوئے راحت کا انتظار کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟ اس کا جائزہ لینے کے لیے مالدہ ضلع بی جے پی کے ایک وفد نے جمعہ کو سیلاب سے متاثرہ مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں کے متاثرین سے دریافت کیا کہ انہیں واقعی کھانا مل رہا ہے یا نہیں۔
مقامی باشندوں کے مطابق، جمعہ کو بھی معلوم ہوا کہ خوف کے باعث سیلاب متاثرین میں سے بہت سے لوگ کچھ راشن یا سامان محفوظ رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایسے کئی دور دراز علاقے بھی ہیں جہاں ابھی راحت کا سامان پہنچنا شروع ہوا ہے۔ اس لیے صورتحال بالکل معمول پر نہیں آئی ہے۔
ضلع انتظامیہ کے افسران کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ سیلاب کے مقابلے اس بار کہیں زیادہ راحت فراہم کی گئی ہے۔ اب بھی راحت کی تقسیم جاری ہے۔ 22 راحتی کیمپوں میں 7 ہزار سے زیادہ افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ جمعہ کو گنگا کی سطح آب میں 15 سینٹی میٹر کمی آنے کے بعد انتظامیہ نے ان علاقوں تک بھی راحت پہنچانے کے لیے مزید تیزی سے کام شروع کر دیا جہاں اب تک پہنچنا ممکن نہیں تھا۔ انتظامیہ کے مطابق، موجودہ سیزن میں گنگا کی سطح آب بڑھ کر زیادہ سے زیادہ 26.07 میٹر تک پہنچ گئی تھی۔
سیلابی پانی میں گھری بھٹنی میں جمعہ کی صبح پانی کی سطح کم ہوکر 25.51 میٹر رہ گئی۔ تاہم، اب بھی پانی کی سطح خطرے کی انتہائی حد سے 21 سینٹی میٹر اوپر ہے۔ پانی کم ہونے کے ساتھ مختلف علاقوں میں دریا کے اندر ریت کے ٹاپو ابھرنے لگے ہیں۔ کئی گھروں سے بھی پانی اترنا شروع ہوگیا ہے۔
انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، گنگا کے بالائی کیچمنٹ علاقے میں پانی کم ہونے اور مقامی سطح پر بارش نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال میں کچھ بہتری آئی ہے۔ انتظامیہ کے افسران کو امید ہے کہ اگر بہار، اتر پردیش یا مقامی علاقوں میں دوبارہ شدید بارش نہیں ہوئی تو صورتحال جلد معمول پر آ جائے گی۔ پانی اترنے کے بعد آبی امراض پھیلنے اور دوبارہ دریا کے کٹاو¿ کا خطرہ بھی موجود ہے، اس لیے اس جانب بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

Back to top button
Translate »