بیٹے کا کیا ہوگا، مجھے نہیں معلوم“ سعودی عرب میں بوسہ لیتے جوڑے کی ویڈیو وائرل کرنے کے معاملے میں مرشدآباد کی خاتون پریشان

بیٹے کا کیا ہوگا، مجھے نہیں معلوم“ سعودی عرب میں بوسہ لیتے جوڑے کی ویڈیو وائرل کرنے کے معاملے میں مرشدآباد کی خاتون پریشان

مکہ مکرمہ میں بوسہ لیتے ہوئے ایک بنگلہ دیشی جوڑے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں سزائے موت دیے جانے کے معاملے نے ہلچل مچا دی ہے۔ اس جوڑے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے الزام میں مرشدآباد کا ایک تارکِ وطن مزدور سعودی عرب کی جیل میں بند ہے۔ اس نوجوان کا نام شہاب الدین شیخ ہے اور وہ بہرام پور کے بلرام پور گاو¿ں کا رہنے والا ہے۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد شہاب الدین کا خاندان شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔
شہاب الدین کی والدہ کی فکر ہے کہ ”مجھے نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کا کیا ہوگا۔ ہم بہت خوف زدہ ہیں۔“ خاندانی ذرائع کے مطابق، شہاب الدین گزشتہ آٹھ سال سے سعودی عرب میں کام کر رہا تھا اور وہ خاندان کا واحد کمانے والا فرد ہے۔ وہ مکہ مکرمہ میں مسجد کی صفائی کا کام کرنے گیا تھا، لیکن تین سال پرانے اس واقعے کے سلسلے میں اس کا بیٹا جیل میں بند ہے۔ اب اس جوڑے کو سزائے موت دیے جانے کی خبر کے بعد بلرام پور گاو¿ں میں رہنے والا یہ خاندان شدید ذہنی دباو¿ میں ہے۔
سعودی عرب میں بنگلہ دیشی جوڑے کو سر قلم کرکے سزائے موت دیے جانے کے بعد دنیا بھر میں تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کیا بوسہ لینا واقعی جرم ہے؟ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر وسیع بحث کے درمیان ویڈیو اور تصاویر وائرل کرنے والے شخص کی شناخت بھی سامنے آگئی۔ معلوم ہوا کہ اس معاملے کے پیچھے بنگال کا ہی ایک نوجوان ہے۔
بنگال کے نوجوان شہاب الدین شیخ نے ہی بوسہ لیتے ہوئے جوڑے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے محض مذاق کے لیے ایسا کیا تھا۔ تاہم، اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی وجہ سے اتنی سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے الزام میں سعودی پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ شہاب الدین اب سعودی عرب کی جیل میں قید ہے۔
لیکن اس کے خاندان کا دعویٰ کچھ اور ہے۔ شہاب الدین کی والدہ کوہ نور بی بی کا کہنا ہے، ”میرے بیٹے نے ایسا کوئی بڑا جرم نہیں کیا۔ میرے بیٹے سے موبائل فون لے کر مکہ میں اس جوڑے کی ویڈیو پاکستان کے ایک نوجوان نے بنائی تھی۔ میرے بیٹے نے اسے اپ لوڈ کیا تھا، جس کے بعد وہ وائرل ہوگئی۔ میرے بیٹے کو جیل میں بند رکھا گیا ہے، لیکن اصل قصوروار وہ نہیں ہے۔“
تارکِ وطن مزدوروں کے لیے کام کرنے والی مرشدآباد کی ایک رضاکار تنظیم کے سکریٹری مطیع الرحمٰن نے کہا، ”اس نوجوان نے محض مذاق کے لیے ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اسے ایسی مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔“جولائی ۲۰۲۳ سے شہاب الدین جیل میں بند ہے۔ اس کے ساتھ مکہ مکرمہ میں صفائی کا کام کرنے والا بنگلہ دیشی جوڑا بھی وہاں کام کرتا تھا۔
شہاب الدین کی والدہ کوہ نور بی بی نے کہا، ”اس جوڑے کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے بیٹے کا کیا ہوگا۔ ہم بہت خوف زدہ ہیں۔ وہ تین سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند ہے۔ اس نے کوئی بڑا جرم نہیں کیا، لیکن اسے اس کے لیے اتنی سخت سزا بھگتنی پڑ رہی ہے۔ اسی کی کمائی سے ہمارا گھر چلتا تھا۔“اپنے بیٹے کو جیل سے رہا کرا کے گھر واپس لانے کے لیے خاندان نے دہلی سے رابطہ کیا ہے۔ لیکن اب تک کوئی جواب نہ ملنے کی وجہ سے شہاب الدین کے والدین کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔
Back to top button
Translate »