غیر منظور شدہ مدارس کے تعلق سے الہ اباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئند اور انصاف پر مبنی ہے ۔۔۔
غیر منظور شدہ مدارس کے تعلق سے الہ اباد ہائی کورٹ کا فیصلہ خوش آئند اور انصاف پر مبنی ہے ۔۔۔
پریس ریلیز

غیر منظور شدہ مدارس کے تعلق سے الہ اباد ہائی کورٹ کے ججمینٹ پر راشٹریہ علماء کونسل کے قومی صدر مولانا عامر رشادی مدنی نے اپنا تاثر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس تاریخی فیصلے کی ہم بھرپور تاید کرتے ہیں جس میں حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے مدارس کے خلاف چلائی جا رہی جانبدارانہ اور امتیازی مہم پر سخت سوال اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت عالیہ نے نہ صرف اس کو غیر آئینی قرار دیا بلکہ یہ بھی واضح کیا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 30 میں اقلیتی طبقے کو یہ بنیادی حق دیتا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے، بشمول مدارس، بغیر سرکاری منظوری کے بھی قائم اور چلانے کا اختیار رکھتا ہے۔
الٰہ آباد ہائی کورٹ کے معزز فیصلے کا ہم دل کی گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں جس میں اتر پردیش کے شراوستی ضلع انتظامیہ کی جانب سے مدرسہ اہل سنت امام احمد رضا کو بند کرنے کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے 24 گھنٹے کے اندر سیل ہٹانے کا حکم دیا۔ بغیر کسی معقول جانچ، شفاف طریقۂ کار اور قانونی بنیاد کے مدارس کو نشانہ بنانا آئینی اقدار، تعلیمی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف ہے۔
مدارس ملک کے تعلیمی اور تہذیبی ڈھانچے کا ایک مضبوط ستون ہیں۔ یہاں سے نکلنے والے طلبہ نہ صرف دینی علوم میں مہارت رکھتے ہیں بلکہ ملک و معاشرے کی خدمت میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔ ان اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا اور محض سیاسی مفادات کی خاطر بدنام کرنا افسوسناک بھی ہے اور خطرناک بھی۔
مولانا رشادی نے کہا کہ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ ایک نظیر ہے کہ اور واضح پیغام ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور آئین ہر شہری کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے اور تعلیمی ادارے چلانے کا حق دیتا ہے۔ مدارس کے خلاف مہم دراصل ملک کے سیکولر اور جمہوری مزاج پر ضرب ہے۔
مدارس کے خلاف نفرت انگیز اور تعصب پر مبنی مہم فوراً بند ہونی چاہئے اور اقلیتی تعلیمی اداروں اور خاص طور پر مدارس اسلامیہ کو اپنے سیاسی مفاد کے حصول کے لیے بدنام کرنے سے باز آنا چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔


