
فرضی کمپنیاں کھول کر کروڑوں روپے کی بدعنوانی! علی الصبح لیک ٹاو¿ن اور ہگلی میں ای ڈی کی کارروائی
فرضی کمپنیاں کھول کر کروڑوں روپے کی بدعنوانی! علی الصبح لیک ٹاو¿ن اور ہگلی میں ای ڈی کی کارروائی
مرکزی تحقیقاتی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) ایک بار پھر علی الصبح کارروائی کے موڈ میں نظر آئی۔ جمعہ کی صبح سویرے ای ڈی کے افسران نے لیک ٹاو¿ن میں ایک چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ کے گھر پر چھاپہ مارا۔ بتایا جا رہا ہے کہ فرضی کمپنیاں قائم کرکے کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں یہ تلاشی لی جا رہی ہے۔ اسی معاملے میں تحقیقاتی افسران ہوگلی کے اترپارہ میں واقع ایک مکان پر بھی پہنچے ہیں۔ مرکزی فورسز کے جوانوں نے مکان کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، جھارکھنڈ میں 66 میگاواٹ بجلی گھر قائم کرنے کے نام پر ایک نجی کمپنی نے بینک سے بھاری قرض حاصل کیا تھا۔ قرض کی رقم تقریباً 290 کروڑ روپے تھی۔ لیکن الزام ہے کہ اس رقم کو بجلی گھر کی تعمیر پر خرچ نہیں کیا گیا، بلکہ اسے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔
الزام ہے کہ اس کمپنی سے براہ راست وابستہ لیک ٹاو¿ن کے ایک پوش رہائشی کمپلیکس کے مکین اشوک سارتھی تھے۔ وہ پیشے سے چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اسی معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں جمعہ کی صبح ای ڈی کی ایک ٹیم لیک ٹاو¿ن پہنچی۔ مرکزی فورسز کے جوانوں نے رہائشی کمپلیکس کو گھیرے میں لے لیا۔ افسران نے اندر ملزم سے پوچھ گچھ کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف دستاویزات کی بھی جانچ کی۔
دوسری جانب، اترپارہ کی شیو تلا اسٹریٹ کے رہائشی سودیپت گھوش بھی پیشے سے چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ ہیں۔ جمعہ کی صبح ای ڈی کے افسران ان کے گھر بھی پہنچے۔ تاہم سودیپت گھوش کا دعویٰ ہے کہ بدعنوانی سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔واضح رہے کہ ای ڈی نے جمعہ کے روز درگاپور اور ہاوڑہ میں بھی چھاپہ ماری کی کارروائی کی۔


