صنعت کاری کے معاملے میں بی جے پی حکومت پر ’اعتماد‘ رکھتے ہیں بدھادیب کے بیٹے سوچیتن

صنعت کاری کے معاملے میں بی جے پی حکومت پر ’اعتماد‘ رکھتے ہیں بدھادیب کے بیٹے سوچیتن

ان کی اپنی کئی شناختیں ہیں اور مختلف طرح کی جدوجہد بھی۔ کبھی اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش، کبھی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کے اندر اختلافات، تو کبھی ایک وی وی آئی پی شخصیت کا بیٹا ہونے کا دباو¿۔ انہوں نے یہ تمام جدوجہد خاموشی سے جاری رکھی۔ کبھی کھل کر کچھ کہتے ہوئے نہیں سنے گئے۔ لیکن اب مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ بدھادیب بھٹاچاریہ کے بیٹے سوچیتن بھٹاچاریہ (Suchetan Bhattacharjee) آہستہ آہستہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
سیاست، سیاسی جماعت، طلبہ تنظیم سے لے کر ریاست میں صنعت کاری کے حوالے سے اپنے والد کے ادھورے خواب اور ترنمول دورِ حکومت میں شدید بے عزتی کا سامنا کرنے جیسے کئی موضوعات پر سوچیتن نے میڈیا کے سامنے اپنی بات رکھی ہے۔ انہوں نے ایس ایف آئی اور سی پی ایم کے خلاف کھل کر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ وہ اپنے والد کے خواب کو پورا کرنے کے لیے موجودہ بی جے پی حکومت پر بھروسہ کر رہے ہیں۔
بدھادیب بھٹاچاریہ کے بیٹے ہونے کی وجہ سے سوچیتن کو ہمیشہ مختلف قسم کے دباو¿ کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ والد کی کشادہ ذہنی نے اس معاملے میں ان کی مدد کی۔ بڑے ہونے کے ساتھ ہی خاندانی روایت اور بائیں بازو کی سیاست پر اعتماد کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ سیاست میں قدم رکھا۔ اس وقت وہ پریزیڈنسی کالج میں شعب? سیاسیات کے طالب علم تھے۔ لیکن تنظیم کے اندر انہیں کئی طرح کے اختلافات کا سامنا کرنا پڑا۔
حال ہی میں ایک انٹرویو میں سوچیتن نے بتایا، ”ایک وقت تھا جب ایس ایف آئی یہ طے کرتی تھی کہ کون کون سی کتاب پڑھے گا، کس کے ساتھ اٹھے بیٹھے گا اور کس سے بات کرے گا۔ میں یہ سب برداشت نہیں کر سکا۔ میں انفرادی شناخت اور شخصی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ سب کا ایک ساتھ مل کر ایک ہی بات کہنا اور ایک ہی نعرہ دہرانا مجھے پسند نہیں تھا۔ دن بہ دن میری ناراضگی بڑھتی جا رہی تھی۔ اسی لیے میں نے ایس ایف آئی چھوڑ دی۔ والد نے کبھی اس معاملے میں مجھ سے کچھ نہیں کہا۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ جو تمہارا دل چاہے، وہی کرو۔“
طلبہ تنظیم کے ساتھ ساتھ سوچیتن نے سی پی ایم پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ”کچھ ایسے روایتی بائیں بازو کے سیاست داں ہیں جو خود کو انتہائی غریب اور پرولتاری ظاہر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سگریٹ پینے کے بھی پیسے نہیں ہیں، اس لیے بیڑی پیتے ہیں۔ ایسے لوگ مجھے بالکل برداشت نہیں ہوتے۔ لیکن دوسری طرف ممکن ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے لیے بھیج رہے ہوں اور خود ان کے پاس بے شمار جائیداد ہو۔ مجھے اس طرح کی دوغلی پالیسی پسند نہیں ہے۔
سابق وزیر اعلیٰ کا بیٹا ہونے کی وجہ سے جس طرح مجھے باہر کے مختلف دباو¿ کا سامنا کرنا پڑا، اسی طرح پارٹی کے اندر بھی دباو¿ تھا۔ وہاں پارٹی کا آئین اور تنظیمی اصول ہیں، جن کے مطابق خود کو ڈھالنے کا دباو¿ رہتا ہے۔ لیکن میں انفرادی آزادی پر یقین رکھنے والا شخص ہوں، اس لیے یہ سب میرے مزاج کے مطابق نہیں تھا۔ اس لحاظ سے پارٹی کے ساتھ میرا کوئی خاص تعلق قائم ہی نہیں ہو سکا۔ میں صرف اپنا ووٹ سی پی ایم کو دیتا ہوں۔“
والد کے ادھورے صنعتی خواب کے بارے میں بات کرتے ہوئے سوچیتن کا لہجہ بدل گیا۔ انہوں نے اپنی تکلیف پر قابو پاتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا کہ سنگور میں صنعت قائم نہ ہو پانے کا افسوس بدھادیب بھٹاچاریہ کو زندگی بھر رہا۔ زندگی کے آخری دنوں میں اسی افسوس نے انہیں ذہنی طور پر مایوسی اور اداسی میں مبتلا کر دیا تھا، جس کے بعد وہ سیاسی موضوعات پر بھی بات نہیں کرتے تھے۔
سوچیتن کے مطابق، اب نئی حکومت صنعتیں قائم کرنے کے لیے انتہائی مثبت اقدامات کر رہی ہے۔ اگر ان اقدامات کو عملی شکل اختیار کرتے ہوئے دیکھتے تو بدھادیب بھٹاچاریہ یقیناً خوش ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس سے خوش ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل سوچیتن کی والدہ میرا بھٹاچاریہ نے بھی سنگور میں صنعت کاری کے معاملے پر شوبھیندو ادھیکاری حکومت پر اعتماد ظاہر کیا تھا۔ ان کا خیال ہے کہ جس کام کو ممتا بنرجی کی مخالفت کی وجہ سے بدھادیب بھٹاچاریہ مکمل نہیں کر سکے، اسے شوبھیندو ادھیکاری پورا کر سکتے ہیں۔ اب بدھادیب بھٹاچاریہ کے بیٹے سوچیتن نے بھی تقریباً اسی امید کا اظہار کیا ہے۔

Back to top button
Translate »