سی پی آئی (ایم ) کے بڑے رہنما اپنے پرانے حلقوں سے لڑنا نہیں چاہتے
سی پی آئی (ایم ) کے بڑے رہنما اپنے پرانے حلقوں سے لڑنا نہیں چاہتے

کولکاتا10فروری :مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر کانگریس کے تمام 294 نشستوں پر اکیلے لڑنے کے اعلان کے بعد سی پی آئی (ایم) کے لیے امیدواروں کے انتخاب کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ تاہم، پارٹی کے اندر اس بات پر شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ 2021 کے انتخابات میں بری طرح شکست کھانے والے ‘ہیوی ویٹ’ رہنما اب اپنی پرانی نشستوں سے دوبارہ انتخاب لڑنے کے حق میں نہیں ہیں۔ میں ممتا بنرجی کی ‘کھیلا ہوبے’ لہر میں سی پی آئی (ایم) کے کئی بڑے ناموں کی ضمانتیں ضبط ہو گئی تھیں۔ اب میناکشی مکھوپادھیائے، شتروپ گھوش، سریجن بھٹاچاریہ اور سیان بنرجی جیسے ‘نئی نسل’ کے رہنماو¿ں پر الزام ہے کہ وہ شکست کے بعد اپنے انتخابی حلقوں میں واپس نہیں گئے۔ نچلی سطح کے پارٹی کارکنوں کا الزام ہے کہ یہ رہنما صرف سوشل میڈیا (فیس بک، ایکس) پر سرگرم رہتے ہیں اور عام لوگوں کے مسائل کے لیے سڑکوں پر نہیں اترتے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ ‘مہاجر امیدواروںکے بجائے ایسے لوگ چاہتے ہیں جو سارا سال ان کے ساتھ رہیں۔ محمد سلیم چندی تلہ کے بجائے ریجی نگر یا بھرت پور سے، شتروپ گھوش کسبہ کے بجائے دم دم اتر سے، اور میناکشی مکھوپادھیائے نندی گرام کے بجائے اتر پاڑہ سے الیکشن لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیپسیتا دھر بالی کے بجائے ڈومجور اور سریجن بھٹاچاریہ سنگور کے بجائے کسبہ سے امیدوار بننا چاہتے ہیں۔ کارکنوں کی شکایات کے باوجود محمد سلیم کی قیادت میں پارٹی نے ان چہروں کو مزید ‘پرموشن’ دیا ہے، جس کی وجہ سے کئی پرانے کامریڈز اور کارکنوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔سی پی آئی (ایم) جو کبھی 34 سال اقتدار میں رہی، اب اپنے ہی ‘ہیوی ویٹ’ لیڈروں کے انتخابی حلقے بدلنے کی خواہش اور کارکنوں کی بغاوت کے باعث مشکل صورتحال کا شکار نظر آتی ہے۔

