ضمانت پر رہا ہوتے ہی گلشن کلونی میں فیروز گینگ کا ‘خوف’ دوبارہ لوٹ آیا

ضمانت پر رہا ہوتے ہی گلشن کلونی میں فیروز گینگ کا 'خوف' دوبارہ لوٹ آیا

کولکتہ: آنند پور میں جیل سے رہا ہونے والا فیروز ایک بار پھر دہشت کی علامت بن رہا ہے۔ دن دہاڑے ایک تعمیراتی تاجر کے گلے پر چھری رکھ کر بھتہ مانگنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ انتخابات سے قبل ‘منی فیروز گینگ’ کی جانب سے دو لاکھ روپے کا مطالبہ اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
آنند پور کی گلشن کالونی میں منی فیروز اور اس کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک کاروباری کے گلے پر چھری رکھ کر دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ اپنی جان بچانے کے لیے تاجر نے 30 ہزار روپے دے دیے، لیکن اس کے باوجود اسے چھٹکارا نہیں ملا۔ الزام ہے کہ مزید رقم کے لیے تاجر کو مسلسل دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اتوار کے روز متاثرہ تاجر نے آنند پور تھانے میں منی فیروز اور اس کے گروہ کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، منی فیروز جرائم کی دنیا میں کافی عرصے سے سرگرم ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں اس نے گلشن کالونی میں بڑے پیمانے پر ہنگامہ آرائی کی تھی، جس میں فائرنگ اور بمباری کے الزامات بھی شامل تھے۔ دو سنڈیکیٹس کے درمیان علاقے پر قبضے کی جنگ میں اس نے دکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس واقعے کے بعد وہ فرار ہو گیا تھا، جسے بعد میں دہلی کے ایک خفیہ ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم، حال ہی میں وہ اپنے ساتھیوں سمیت جیل سے رہا ہوا ہے۔
اب انتخابات کے موقع پر فیروز فورس کی واپسی سے آنند پور میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ تاجر پروموٹرز کو اینٹ اور ریت سپلائی کرتا ہے اور ایک سنڈیکیٹ سے وابستہ ہے۔ اس کا الزام ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے فیروز اور اس کے ساتھی اسے جان سے مارنے کی دھمکی دے کر کبھی دس ہزار تو کبھی بیس ہزار روپے وصول کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اسے ایک گلی میں لے جا کر گلے پر چھری رکھی گئی اور دو لاکھ روپے نہ دینے پر قتل کی دھمکی دی گئی۔ آنند پور تھانہ پولیس نے اس شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
Back to top button
Translate »