انتخابی جنگ میں بنگالی بمقابلہ بنگلہ دیشی تنازع،سوشل میڈیا پر ترنمول کا بی جے پی پر بھرپور حملہ
انتخابی جنگ میں بنگالی بمقابلہ بنگلہ دیشی تنازع،سوشل میڈیا پر ترنمول کا بی جے پی پر بھرپور حملہ
2026 کے بنگال اسمبلی انتخابات کا ایک اہم مسئلہ ‘بنگالی بمقابلہ بنگلہ دیشی’ بننے جا رہا ہے۔ اس معاملے پر بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان باقاعدہ ایک ورچوئل جنگ شروع ہو گئی ہے۔ چند روز قبل بی جے پی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا تھا، "یہ الیکشن مغربی بنگال کو ‘مغربی بنگلہ دیش’ بننے سے روکنے کے لیے ہے، یہی الیکشن فیصلہ کرے گا کہ ہم بنگلہ بولیں گے یا اردو۔”
اس کے جواب میں حکمران جماعت ترنمول کانگریس نے پوسٹ کیا، "یہ انتخاب طے کرے گا کہ ہم فخر کے ساتھ بنگلہ بولیں گے یا ہمیں ‘بنگلہ دیشی’ کا لیبل لگا کر ڈٹینشن کیمپوں میں گھسیٹ لیا جائے گا۔” اس لفظی جنگ سے واضح ہے کہ بنگالی اور بنگلہ دیشی کا تنازع براہ راست بنگال کے انتخابی میدان میں داخل ہو چکا ہے۔
گزشتہ ایک سال سے دیگر ریاستوں میں بنگالی مہاجر مزدوروں پر لسانی بنیادوں پر تشدد کے متعدد الزامات سے ملک کی سیاست گرم رہی ہے۔ الزام ہے کہ تشدد کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد بنگال کے رہائشی ہیں، اور یہ واقعات بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ ریاست کی حکمران جماعت ترنمول کانگریس نے اس کی سخت مخالفت کی ہے اور مرکز کو بارہا خطوط لکھ کر اس کا حل طلب کیا، لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

