انفراسٹرکچر کے مسائل کے باعث ٹرائبونل میں تعطل!
انفراسٹرکچر کے مسائل کے باعث ٹرائبونل میں تعطل!
انفراسٹرکچر کی کمی کی وجہ سے ٹرائبونل میں درخواستوں کے حوالے سے پیچیدگیاں پیدا ہو گئی ہیں، جس کے باعث کئی نامزد ججوں نے کام سے الگ ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس کشمکش کے بعد سابق جسٹس تپن سین باقاعدہ طور پر دستبردار ہو گئے ہیں۔ایس آئی آر (SIR) کے بعد حتمی ووٹر لسٹ سے تقریباً 60 لاکھ نام خارج ہوئے تھے۔ ان ناموں کی دوبارہ شمولیت کے لیے 23 اضلاع کے لیے 19 سابق ججوں پر مشتمل ایک ٹرائبونل تشکیل دیا گیا تھا۔اس ٹرائبونل میں کلکتہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ٹی ایس سیوگننم، سابق جسٹس وشواجیت بوس، رنجیت کمار باگ اور سماپتی چٹرجی سمیت 19 جج شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے 7 اپریل تک تمام زیر التوا ووٹرز کے معاملات حل کرنے کا ہدف رکھا تھا، لیکن ضروری انفراسٹرکچر اور سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ٹرائبونل وقت پر کام شروع نہیں کر سکا۔اس تعطل کی وجہ سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ کیا انتخابات سے قبل خارج شدہ یا ‘ڈی-ووٹرز’ (D-Voters) کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکے گا؟ ذرائع کے مطابق، انفراسٹرکچر کے اسی بحران کی وجہ سے کئی ججوں نے استثنیٰ مانگا تھا، جس کے بعد جسٹس تپن سین نے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

