اپنی کم عمری کی شادی رکوا کر ‘بیرانگنا’بننے والی حسینہ، دو ماہ گزرنے کے بعد بھی انعام کی رقم سے محروم 

اپنی کم عمری کی شادی رکوا کر 'بیرانگنا'بننے والی حسینہ، دو ماہ گزرنے کے بعد بھی انعام کی رقم سے محروم 

15جنوری :اپنی کم عمری کی شادی خود رکوا کر ریاست کا ‘بیرانگنا’ ایوارڈ حاصل کرنے والی بہادر نوعمر لڑکی کو تاحال انعام کے 5 ہزار روپے نہیں مل سکے۔ دو ماہ گزر جانے کے باوجود یہ رقم اس کے ہاتھ نہیں آئی۔ دیہاڑی دار خاندان سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی نے پورولیا کے چائلڈ ہیلپ لائن اور انتظامیہ سے رابطہ کیا، لیکن اس کا دعویٰ ہے کہ رقم ابھی تک اکاو¿نٹ میں نہیں پہنچی۔ اس صورتحال پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ محکمہ ترقیِ نسواں و اطفال اور سماجی بہبود کے زیرِ انتظام مغربی بنگال کمیشن برائے تحفظِ حقوقِ اطفال نے حسینہ کو یہ ایوارڈ دے کر آخر کس طرح کی حوصلہ افزائی کی ہے؟ گزشتہ 20 نومبر کو بچوں کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر مالدہ میں پورولیا کے پاڑا بلاک کے چپوڑی گاو¿ں کی حسینہ خاتون کو اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ تاہم، پورولیا کے جس چائلڈ ہیلپ لائن کی نگرانی میں اس لڑکی نے اپنی شادی رکوائی تھی، اس کے پروجیکٹ کوآرڈینیٹر پنٹو تیواری کا کہنا ہے کہ "اسے انعام کی رقم جلد مل جائے گی۔ جن لوگوں کو بھی یہ ایوارڈ ملا ہے، انہیں ابھی تک رقم موصول نہیں ہوئی ہے۔ بہت جلد حسینہ کے اکاو¿نٹ میں پیسے منتقل کر دیے جائیں گے۔ تاہم، گزشتہ چند ماہ سے ریاست کی جانب سے اسے تعلیم اور صحت کے لیے 4 ہزار روپے ماہانہ بطور اسپانسر شپ دیے جا رہے ہیں۔” معلومات کے مطابق، حسینہ کے والد جہانگیر انصاری راج مزدور کے مددگار کے طور پر کام کرتے ہیں اور یومیہ صرف 250 روپے کماتے ہیں۔ گھر میں بیوی کے علاوہ تین بیٹیاں ہیں، جن میں حسینہ سب سے بڑی ہے۔ وہ اس وقت اناڑا گرلز اسکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہے۔ اس کی منجھلی بہن آٹھویں میں ہے اور سب سے چھوٹی تیسری جماعت میں پڑھتی ہے۔ خاندان انتہائی غربت کا شکار ہے اور جس ایک کمرے کے مکان میں وہ رہتے ہیں، وہ بھی سرکاری اسکیم کے تحت ملا ہے۔ حسینہ کے والد کا کہنا ہے کہ "میں نے 18 سال سے پہلے بیٹی کی شادی کی تیاری شروع کر دی تھی، لیکن بعد میں مجھے اس قانون کا پتہ چلا۔ اب میں 18 سال سے پہلے اس کی شادی نہیں کروں گا۔ میری بیٹی کو مالدہ میں جو ایوارڈ ملا تھا، اس کی رقم ابھی تک نہیں ملی۔ میں انتظامیہ کے پاس بھی گیا، سب کہتے ہیں کہ پیسے آ جائیں گے، لیکن اکاو¿نٹ میں ابھی تک کچھ نہیں آیا۔ پچھلے دو ماہ سے اسے حکومت کی طرف سے 4 ہزار روپے کی اسپانسر شپ مل رہی ہے، جس سے بڑی بیٹی کی تعلیم کا خرچہ کسی طرح پورا ہو رہا ہے۔” حسینہ نے اپنی شادی کیسے رکوائی؟ یہ واقعہ جولائی 2025 کا ہے۔ ایک اچھا رشتہ ملنے پر اس کے والد نے شادی کا فیصلہ کر لیا تھا اور تیاریاں بھی شروع ہو گئی تھیں۔ لیکن حسینہ نے صاف کہہ دیا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہے۔ والدین کا کہنا تھا کہ "پڑھ لکھ کر کیا ہوگا؟ لڑکی کو آخر کار شادی ہی کرنی ہے۔” اس کے بعد حسینہ نے گاو¿ں کے ایک شخص کی مدد سے ڈسٹرکٹ چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پر فون کر کے اطلاع دی۔ فوری طور پر ڈسٹرکٹ چائلڈ پروٹیکشن یونٹ اور بلاک افسران نے مداخلت کی اور والدین سے تحریری ضمانت لے کر انہیں خبردار کیا۔ حسینہ کہتی ہے، "میں پڑھنا چاہتی ہوں اور سب میری مدد کر رہے ہیں۔ بس دکھ اس بات کا ہے کہ مجھے ملے ہوئے انعام کی رقم ابھی تک نہیں ملی۔

Back to top button
Translate »