ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ
ویشنو دیوی میڈیکل کالج طلبہ کا جموں کشمیر کے مختلف گورنمنٹ کالجوں میں ہوگا داخلہ
سرینگر: جموں کے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس میں ’’ایم بی بی ایس‘‘ کورس منسوخ ہونے کے دو ہفتے بعد حکومت نے 50 طلبہ کو جموں و کشمیر کے سات مختلف گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں داخلہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
جموں و کشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزامی نیشن (BOPEE) کی ایک نوٹس کے مطابق ’’طلبہ کو سپر نیومری سیٹوں کے تحت نئے قائم شدہ سات سرکاری میڈیکل کالجوں میں ایڈجسٹ کرنے کے لیے فزیکل کاؤنسلنگ کے لیے بلایا گیا ہے۔‘‘ نوٹس کے مطابق کاؤنسلنگ سیشن ہفتہ (24 جنوری) کو سرینگر اور جموں کے دفاتر میں منعقد ہوگا۔
یاد رہے کہ ویشنو دیوی میڈیکل کالج کے پہلے بیچ کے 50 طلبہ کا تعلیمی مستقبل اس وقت تنازع کا شکار ہوا جب نیشنل میڈیکل اسیسمنٹ اینڈ ریٹنگ بورڈ (MARB) نے جموں کے ریاسی ضلع میں واقع اس ادارے کی تعلیمی سال 2025-26 کے لیے ایم بی بی ایس کورس کی اجازت (رجسٹریشن) منسوخ کر لی۔
رجسٹریشن معطل ہونے کے بعد جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی سنگھرش سمیتی نے اطمینان کا اظہار کیا اور خوشی منائی۔ یہ تنظیم نومبر 2025 میں قائم کی گئی تھی اور اس میں سخت گیر موقف کی حامل دائیں بازو اور مختلف تجارتی و سماجی درجنوں تنظیمیں شامل ہوئیں۔ تنظیم نے کالج میں کشمیری مسلم طلبہ کے داخلوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ادارے کے پہلے بیچ میں 50 میں سے 42 طلبہ کا تعلق کشمیر سے تھا، جنہیں نیٹ کے میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا گیا تھا۔
تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ ’’شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے وسائل ہندو یاتریوں کے نذر و نیاز سے آتے ہیں اور ان کا استعمال صرف ہندوؤں کے لیے ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم یہ ادارہ اقلیتی ادارہ قرار نہیں دیا گیا ہے اور پچھلے دو برسوں میں اسے جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے 50 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ بھی ملی ہے۔
ایم بی بی ایس کورس کی اجازت منسوخ ہونے کے بعد طلبہ کو کالج چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔ بعد ازاں نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے واضح کیا کہ کاؤنسلنگ کے دوران داخلہ لینے والے طلبہ کو جموں و کشمیر کے دیگر اداروں میں سپر نیومری سیٹوں پر ایڈجسٹ کیا جائے گا۔
ابتدا میں BOPEE نے کہا تھا کہ وہ ایم بی بی ایس کے لیے نئی کاؤنسلنگ نہیں کرا سکتا، تاہم تازہ نوٹس میں BOPEE کے کنٹرولر امتحانات پروفیسر گورویندر راج ورما نے بتایا کہ طلبہ کو نیٹ میرٹ کی بنیاد پر گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ، بارہمولہ، ڈوڈہ، ہندوارہ، کٹھوعہ، راجوری اور ادھم پور میں داخلہ دیا جائے گا۔
نوٹس کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں آٹھ سیٹیں مختص کی گئی ہیں، جبکہ دیگر کالجوں میں سات سات طلبہ کو ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ وہیں طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تصدیق کے لیے اصل دستاویزات، بشمول ڈومیسائل سرٹیفکیٹ اور داخلہ فیس کی رسیدیں، اپنے ساتھ لائیں۔


