بنگالیوں کو ‘ماچھ-بھات’ (مچھلی چاول) کی یقین دہانی

جو مچھلی سے پیار کرے، وہی ووٹوں کا بھگوان!بی جے پی امیدواروں کی 'مچھلی مہم'۔

بنگالیوں کو ‘ماچھ-بھات’ (مچھلی چاول) کی یقین دہانی
بی جے پی کو ‘بنگالی مخالف’ قرار دینے کے لیے ترنمول کی سرگرمی بڑھتی جا رہی ہے۔ انتخابی مہم میں حکمران جماعت نت نئے نظریات پیش کر رہی ہے— کبھی ‘بیرونی’ ہونے کا طعنہ، کبھی ‘بنگالی ثقافت سے ناواقفیت’ کا الزام، اور اب یہ نظریہ کہ بی جے پی ‘مچھلی اور گوشت کھانے نہیں دے گی’۔ ان حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بی جے پی نے دوہرا طریقہ اپنایا ہے۔ پہلے تو رہنما ان باتوں کو ہنس کر اڑا دیتے ہیں، اور پھر عملی طور پر اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ اسی حکمت عملی کے تحت ریاست کے مچھلی بازاروں میں بی جے پی امیدواروں کی چہل پہل بڑھ گئی ہے اور وہ مچھلیوں کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔

مغربی بنگال کے بیشتر بی جے پی رہنما مچھلی اور گوشت کے شوقین ہیں۔ سابق ریاستی صدر دلیپ گھوش دہائیوں تک آر ایس ایس کے مبلغ رہے، لیکن ان کی غذا نہیں بدلی۔ وہ چھوٹی مچھلی زیادہ پسند کرتے ہیں اور فرصت ملنے پر گاو¿ں میں چھپ (fishing rod) لے کر مچھلی پکڑنے بیٹھ جاتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے کھڑگ پور کے مچھلی بازار کا دورہ کیا اور وہاں کے دکانداروں کے ساتھ گفتگو کی تصاویر شیئر کیں، جس میں انہوں نے مقامی ترنمول رہنماو¿ں پر بھتہ خوری کا الزام بھی لگایا۔

Back to top button
Translate »