سلمان خان کی ’بیٹل آف گلوان‘ پر تنازع: فلم کے نام کی تبدیلی اور ریلیز میں تاخیر کے بعد اب ری شوٹنگ کی اطلاعات کیوں آ رہی ہیں؟
یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں جب ہر سال نہیں تو اکثر عید کے موقع پر شائقین کو بالی ووڈ سپر سٹار سلمان خان کی نئی فلم کی لطف اندوز ہوتے تھے۔ عید الاضحیٰ کے موقع پر ریلیز ہونے والی سلمان خان کی فلمیں عموماً باکس آفس پر کامیاب بھی ہوتی تھیں۔
گذشتہ برس، ایک سال کے وقفے کے بعد، سلمان خان کی فلم ’سکندر‘ عید کے موقع پر ریلیز ہوئی تھی۔ اس سے قبل 2023 میں اُن کی فلم ’کسی کا بھائی کسی کی جان‘ ریلیز ہوئی تھی۔
لیکن یہاں بات عید پر ریلیز ہونے والی فلموں کی نہیں، بلکہ اس فلم کی ہے جو اپنے اعلان کے وقت سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے۔
اس فلم کو 17 اپریل 2026 (یعنی آج) ریلیز ہونا تھا مگر اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تنازعات کے بعد اس فلم کی دوبارہ شوٹنگ کی جا رہی ہے۔ اس فلم کی تشہیر کے لیے دسمبر 2025 میں ٹیزر بھی جاری کیا گیا تھا، جس میں سلمان خان ایک انڈین فوجی کا کردار ادا کرتے نظر آئے تھے۔
اس فلم کا ابتدائی نام ’بیٹل آف گلوان‘ تھا۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہاں ’تھا‘ کا لفظ کیوں استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب فلم کا نام تبدیل کر کے ’ماتربھومی: مے وار ریسٹ ان پیس‘ رکھ دیا گیا ہے۔
نام کی تبدیلی کا اعلان خود سلمان خان نے گذشتہ ماہ ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے کیا تھا، تاہم اس پوسٹ میں نہ تو نام بدلنے کی وجہ بتائی گئی اور نہ ہی اِس کا براہِ راست ذکر کیا گیا۔
اس پوسٹ کے نیچے کمنٹس سیکشن میں متعدد صارفین نے دعوے کیے کہ یہ فیصلہ حکومت کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے، کیونکہ حکومت نہیں چاہتی کہ فلم کی وجہ سے انڈیا اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو۔
یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں ٹیزر ریلیز ہونے کے بعد چینی میڈیا میں اس فلم کے موضوع پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ چینی حکومت کے زیرِ اثر اخبار ’گلوبل ٹائمز‘ نے ماہرین کے حوالے سے لکھا تھا کہ فلم کا موضوع اور وقت دونوں نامناسب ہیں، کیونکہ یہ یکطرفہ انڈین بیانیہ پیش کرتی ہے اور کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔



